پہلگام واقعے کے بعد بھارت کو اندرون و بیرون ملک تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر توجہ اور پذیرائی ملنے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے، جبکہ بعض ناقدین نے اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا۔
تحریک خالصتان سے وابستہ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں سکھ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ پر مختلف ممالک میں سکھ رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔
امریکا میں سکھ رہنما کے قتل کی مبینہ سازش کے معاملے پر بھی بھارت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال کے بعد پاکستان کے سفارتی مؤقف کو تقویت ملی، جبکہ بھارت کو بین الاقوامی سطح پر سوالات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔








