خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے سب سے بڑے قصبے وانا میں دہشتگروں نے کس طرح خودکش حملہ کیا تفصیلات سامنے آگئی ہیں ۔
چند دنوں قبل دہشتگروں نے کیڈٹ کالج وانا کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، خودکش حملہ آور نے گیٹ پر اپنی گاڑی ٹکرائی تھی جس سے 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اس کے بعد دیگر 4 دہشگردوں نے وانا کیڈٹ کالج کے احاطے میں گھسنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے یہاں پر دہشتگردوں کو ایک جگہ پر چھپنے پر مجبور کیا گیا، اس کے بعد بچوں اور اسٹاف کو بحفاظت یہاں سے منتقل کیا گیا۔
دہشت گرد پوری کاروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل پیرا تھے، حملے کی منصوبہ بندی خارجی “زاہد” نے کی اور خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری “جیش الہند” کے نام سے قبول کی-
بعدازاں ایس ایس جی اور کوئیک رسپانس فورس کے اہلکاروں نے ان کےخلاف کارروائی کی ان چار دہشتگردوں کا کہیں بھاگنے کا موقع نہیں ملا اور وہ باہر نکلنے کی کوشش میں مارے گئے۔
یہ بہت اہم نوعیت کی کارروائی تھی کیوں کہ جب دشتگردوں نے حملہ کیا تو یہاں کالج میں پوری تعداد میں بچے موجود تھے اور خدانخواستہ اے پی ایس کی طرز پر واقعہ پیش آسکتا تھا۔
جہاں گیٹ پر خودکش حملہ آور نے خود کو اڑیا اس کے مناظر دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس قدر تیاری سے آئے تھے، اور اپنے ہینڈرلز سے رابطے میں بھی تھے۔
مارے جانے والے دہشتگردوں کی شناخت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ افغانی تھے، جس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ ایک ایسی تنظیم ہو جو بھارت سے پیسے لے کر کام کررہی ہے اور اس کا مقصد پاک افغان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہوا۔









