Light
Dark

عاشق رسولؐ غازی علم الدین شہیدؒ کی برسی

حرمت رسولؐ پر جان قربان کرنے والے عاشق رسولؐ غازی علم دین شہیدؒ کی برسی نہایت ہی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے۔ علم الدین (جنھیں عرف عام میں غازی علم الدین کے نام سے جانا جاتا ہے) سچے عاشق رسول تھے۔
سنہ 1927 میں لاہور کے ایک آریہ کتب فروش راج پال نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں ایک کتاب شائع کی۔ اس کتاب کا نام ہی کچھ ایسا تھا کہ جسے بوجوہ یہاں لیا نہیں کیا جا سکتا۔یہ کتاب سوامی دیانند کے ایک شاگرد نے تحریر کی تھی جو لاہور کے ایک اخبار ‘پرتاب’ کے مدیر تھے۔ اس زمانے میں اس کتاب پر سب سے بڑی تنقید کی جاتی تھی کہ اس میں مبینہ طور پر قرآن کی آیات اور فرموداتِ پیغمبر کی غلط تاویلات کی گئی تھیں اور ان تاویلات کی بنیاد پر اس کتاب کی عمارت کھڑی کی گئی تھی۔
مصنف نے مسلمانوں کے ممکنہ ردِعمل سے بچنے کی خاطر اس کتاب پر اپنے بجائے پروفیسر پنڈنت چمپو پتی لال کا نام بطور مصنف شائع کیا تھا تاکہ وہ قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔
اس کتاب کی اشاعت کے بعد مسلمانوں کی جانب سے احتجاج اور عدالتی کارروائی شروع کی گئی اور بالآخر علم الدین شہید نے 16 اپریل 1929ء کو حضور نبی کریمؐ کی شان اقدس میں گستاخی پر مبنی کتاب کے مصنف راجپال کو جہنم رسید کیا تھا انگریز حکومت نے غازی علم الدین شہید پر مقدمہ کر دیا۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی بطور وکیل غازی علم دین شہید کا مقدمہ لڑا تھا۔
تاہم وہ مقدمہ جیت نہ سکے اور عدالت نے علم الدین کو موت کی سزا سنا دی
مسلمانوں کے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ سے انگریزوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے اور جان بخشی کیلئے غازی علم الدین کو آمادہ کرنے کو کہا جس کے جواب میں علامہ اقبالؒ نے وہ تاریخی الفاظ کہے کہ اگر کسی شخص نے جنت کی طرف جانے والا راستہ منتخب کر لیا ہو تو میں انہیں ایسا کرنے سے کیسے روک سکتا ہوں
غازی علم دین شہید کو 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ جس سے غازی علم الدین شہید شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے۔

بعدازاں مسلمانوں کے مطالبے پر علم الدین، جو اب عوام میں غازی علم الدین کے نام سے مشہور ہو چکے تھے، کی میت لاہور لائی گئی جہاں 14 نومبر 1929 کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد انھیں لاہور ہی کے میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

عاشق رسولؐ غازی علم الدین شہید کے یوم شہادت کے موقع پر ملک بھر میں سیمینارز، قرآن خوانی اور دیگرتقریبات کا اہتمام کیا گیا آج ہم ان کی برسی کے موقعے پر انہیں دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔