الیاتی اسکینڈل، بلدیہ کی 65 ہزار گز زمین کوڑیوں کے دام الاٹ کرنے کی تیاری،افسران کی معطلی برطرفی کے دوران گھناؤنا کھیل جاری ہے
میئر کراچی مرتضی وہاب کی نگرانی میں اربوں روپے مالیت کی زمین کی بندر بانٹ، من پسند افراد کو الاٹ،
ایک ہزار میں 3125 گز نجی تعلیم ادارہ، 22 لاکھ روپے ماپانہ پر ایک سیاسی خاندان کو بس ٹرمینل الاٹ کرنے کی تیاری،
بلدیہ عظمی کراچی، اسٹیٹ، اکاموڈیشن میں قانون ختم کرکے خلاف ورزی پر جرمانہ، بلک لسٹ،بے دخلی کرنے کا ترمیمی قوانین پیش کریں گے
کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ) بلدیہ عظمی کراچی کی اربوں رپے مالیت کی زمینوں کی بندر بانٹ، لوٹ سیل جاری ہے۔ کراچی کی اربوں روپے کی زمینوں کو خاموشی سے ٹھکانے لگانے کے منصوبے میں افسران کی بھی موج لگ گئی ہیں، دونوں ہاتھوں سے نوٹ بٹور رہے ہیں، مبینہ طور پر میئر کراچی مرتضی وہاب خود ان کاموں کی نگرانی کررہے ہیں اور افسران کی معطلی اور برطرفی کرکے معاملہ کو سرد خانے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکمنامہ اور صوبائی قوانین کے برخلاف اپنی ملکیتی زمینوں اور آثاثوں کو اپنے من پسند کو براہ راست کوڑیوں کے مول میں بانٹا شروع کردیا ہے۔ اربوں روپے اراضی کو نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے تو بلدیہ عظمی کراچی کی آمدن تین سے پانچ ارب روپے سے زائد اضافہ ہوسکتا ہے۔ کراچی کا سب سے بڑا مالیاتی اسکنڈل میئر کراچی مرتضی وہاب کی نگران میں پکڑا گیا،میئر کراچی مرتضی وہاب کی ہدایت پر اپنے عزیر کی سماجی تنظیم کو ایک ہزار روپے گز پر تعلیم ادارہ کھولنے کے لئے دس سال معاہدہ کرلیا ہے اورپلاٹ پر تمام تعمیراتی کام بھی وہ کرسکنے کا اختیار بھی دیدیا گیا ہے۔ پلاٹ نمبر ST-13 سیکٹر 15&16 گلستان مزدور بلدیہ ٹاون کراچی کا رقبہ 3125 مربع گز زمین دی سٹیزن فاونڈیشن کو تعلیمی سرگرمیوں کے لیئے مختص کردی گئی ہے۔ ایک ہزار روپے کے حساب سے زمین کی قیمت تین لاکھ 25 ہزار روپے ادا کریں گی اور یہ زمین دس سال کے لئے الاٹ کردی گئی ہے۔ دس سال بعد سماجی ادارہ کروڑ روپے کمانے کے بعد سو روپے گز کے حساب سے اضافہ ادا کریں گے۔ گڑ باغیچے پر قبضے کے منصوبے پر عملدرآمد کے لئے کراچی کے سیاسی خاندان سلک روٹ ٹرانسپورٹ کمپنی کو الاٹ کردی گئی ہے۔ قرارداد 3 میں پلاٹس کا رقبہ نہیں بتایا گیا ہے اس کو 22 لاکھ روپے ماہانہ اور ڈھائی کروڑ روپے سالانہ کرائے پر بس ٹرمینل کو الاٹ کردی گئی ہے۔ میئر کراچی مرتضی وہاب کے درمیان معاہدہ ہوا ہے اربوں روپے مالیت کی زمین گڑباغیچہ کے متصل آصف کالونی منگھوپیر روڈ K-28 شیٹ نمبر پلاٹ نمبر 108سیاسی خاندان کو الاٹ کردی گئی ہے۔بندر بانٹ کا یہ سلسلہ جاری ہے، ذرائع کے مطابق میئر کراچی مرتضی وہاب کی ہدایت پر ایک سیاسی شخصیت کو بلدیہ ٹاون کی 65 ہزار گز سے زائد پلاٹ جو اربوں روپے مالیت کا ہے اس کی زمین کو ٹھکانے لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ قوانین کے مطابق اس زمین کو کسی کے نام پر بھی الاٹ کرنے سے قبل نیلامی ضروری ہے لیکن بلدیہ عظمی کراچی کے محکمہ لینڈ نے اس زمین کو تقریبا 3 کروڑ، روپے میں الاٹ کرنے کی تیاری کرتے ہوئے چلان نمبر 1791 بک نمبر 6859 اور سیریل نمبر 52937 جاری کردیا ہے جس کی مالیت 3 ارب سے زائد بنتی ہے چلان کی رقم دو کروڑ 94 لاکھ 5000 روپے مقرر کی گئی ہے، یہ چالان 5 جون 2025 کو نیشنل بینک میں جمع کرائی گئی اس میں زمین کا رقبہ 65340 گز بتایا گیا ہے یہ زمین کا مقام، پلاٹ نمبر دیگر تفصیلات چالان میں موجود نہیں، الاٹ کی گئی زمین کے چالان میں مذکورہ شخص کا نام، قومی شناختی کارڈ نمبر یا سیل نمبر تک موجود نہیں، اتنے بڑے پلاٹ کو کسی نامعلوم شخص یا ادارے کے نام پر الاٹ کیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مولوی تمیز الدین روڈ کوئینز کوارٹر پلاٹ نمبر پی آر او 1 کو بھی ٹھکانے لگایا جارہا ہے جس کی مالیت 2019 میں 8 کروڑ روپے طے ہوئی تھی لیکن یہ نیلامی کینسل ہوگئی تھی تاہم اس وقت اگر نیلامی کی جائے تو اس پلاٹ کی مالیت تقریبا 25 کروڑ سے زائد بنتی ہے۔ موجودہ افسران نے اس پلاٹ پر قبضہ کروا دیا ہے، اس کے علاوہ جمشید روڈ،مسلم آباد سوسائٹی کے بنگلہ نمبر ایک جوکہ بلدیہ عظمی کراچی کے افسران کی رہائش گاہ ہے اور اس کے ساتھ ایک خالی پلاٹ ہے دونوں پر بلدیہ عظمی کراچی کے افسران کی ملی بھگت سے قبضہ مافیا کے حوالے کرنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے اور دعویداروں کو عدالت کا راستہ دیکھا دیا گیا ہے، بلدیہ عظمی کراچی مذکورہ شخص کی حمایت میں بیان جمع کرائے گی اور کم قیمت میں زمین آسانی سے ٹھکانے لگائی جانے کی تیاری جاری ہے۔ کراچی کا نیا مالیاتی اسکینڈل اربوں رپے مالیت کی زمین اور پلاٹس کو من پسند افراد کو نوارنے کے لئے سٹی کونسل کی قرارداد کے ذریعے زمینوں کو ٹھکانے لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔31 اکتوبر 2025 بروز جمعہ کو سٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہوگا۔ کونسل سیکریٹریٹ کا ایجنڈا نمبر 8 میں پانچ قراردادیں شامل کی گئی ہیں، ان میں محکمہ اسٹیٹ اینڈ اکاموڈیشن کا ضمنی قوانین پیش کیا جائے گا اور دیگر چار ایجنڈے زمینوں سے متعلق شامل ہیں۔ محکمہ اسٹیٹ کے زیر انتظام تجارتی املاک کا انتظام اور کرائے پر لینے کے طریقہ کار، کرایہ کی شرائط اور تعین، کرائے پر دی گئی جائیداد کے استعمال، معاہدہ کی منسوخی، تجاوز ااور خلاف ورزیوں کی صورت میں اقدامات، تنازعہ کا حل سمیت مختلف امور کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا اور اکاموڈیشن کے زیر انتظام، رہائش گاہوں کے لئے الاٹمنٹ کی اہلیت کی شرائط وضوبط،غیر مجاز قبضے اور سزاوں میں تنازعہ کا حل سمیت قوانین میں ردبدل کیا گیا ہے تمام تنازعہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ حل کرے گی، اس کے خلاف میونسپل کمشنر کے پاس اپیل کرسکیں گے۔ کسی عدالت میں کوئی اپیل نہیں کر سکیں گے۔ اس کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائیگا اور بے دخلی اور بیلک لسٹ کے ساتھ فوجداری مقدمات درج ہوں گے، جبکہ ذوالفقار آباد آئل ٹرمینل کی اراضی میں 50 ایکٹر اراضی الگ کرکے نئی نظرثانی لے آوٹ پلان و منصوبے کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ ذوالفقار آباد آئل ٹرمینل کا رقبہ 50 ایکٹر شامل ہونے پر 200 ایکٹر اراضی پر مشتمل ہوجائے گا۔









