انسانیت سوز مظالم ڈھانے والے امن کے دشمن اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ پر شدید حملے شروع کر دیے۔
الجزیرہ کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر پر بمباری کی ہے جس میں متعدد مقامات پر حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
رفح اور خان یونس سےگولہ باری کی آوازیں مسلسل آرہی ہیں اور غزہ شہر میں وقفے وقفے سے بمباری جاری ہے جس سے فلسطینی شہریوں میں شدیدخوف وہراس پایا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں سےغزہ شہر کے متعدد علاقے نشانہ بنے ہیں جن میں ایک میزائل الشفا اسپتال کے پیچھےگرا ہے اور اسپتال کی مرکزی عمارت کے قریب زوردار دھماکا سنا گیا ہے۔ الشفااسپتال کی عمارت حال ہی میں مرمت کے بعد دوبارہ فعال کی گئی تھی
اسرائیلی حملےکے بعد مریضوں اور طبی عملےمیں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ غزہ کی فضاؤں میں اسرائیلی طیاروں اور ڈرونز کی پروازیں جاری ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حماس پر امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے فوج کو غزہ کی پٹی پر شدید حملے کرنے کا حکم دیا ہے۔
ان کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “سیکیورٹی مشاورت کے بعد نیتن یاہو نے فوج کو غزہ کی پٹی میں فوری طور پر طاقتور حملے کرنے کی ہدایت کی۔
اسرائیل نے حماس پر لاشوں کی واپسی اور باقیات کو “دوبارہ دفنانے” کا الزام لگایا ہے۔
آج صبح تک حماس کی طرف سے واپس کی گئی لاش کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور حکام کو بڑھتا ہوا شبہ ہے کہ یہ غزہ میں ابھی تک موجود 13 مردہ یرغمالیوں میں سے کسی کی بھی نہیں ہو سکتی۔
غزہ میں تاحال 13 اسیران کی لاشیں موجود ہیں۔ حماس نے کہا کہ اس سے قبل اس نے ایک مغوی کی باقیات برآمد کی ہیں جسے وہ آج شام حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔









