ڈاکٹر عبدالرؤف صادق
پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا نوجوان طبقہ ہے، لیکن افسوس کہ یہی طبقہ سب سے زیادہ نظرانداز، مایوس اور غیر یقینی کیفیت کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ریاست اور سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو صرف انتخابی مہمات میں نعروں، جلسوں اور ریلیوں کی حد تک یاد رکھا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر ان کے لیے کوئی واضح سمت یا پالیسی موجود نہیں۔ نوجوانوں کی مایوسی اور بیزاری کا سب سے بڑا سبب وہ نظام ہے جو دہائیوں سے موروثی سیاست، سفارش، اقرباپروری اور غیر شفافیت پر کھڑا ہے۔ جس ریاست میں قابلیت سے زیادہ تعلق، میرٹ سے زیادہ سفارش، اور عوامی خدمت سے زیادہ سیاسی وابستگی کی قدر ہو، وہاں نوجوانوں کے لیے ترقی کی راہیں خود بخود بند ہوجاتی ہیں۔
نوجوانوں کی نفسیاتی کیفیت ایک ایسے دباؤ کا مظہر بن چکی ہے جس میں انہیں اپنی صلاحیتوں کا اعتراف نہیں ملتا۔ ذہنی دباؤ، بے روزگاری، عدم استحکام، سماجی ناانصافی اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد نے ایک پورے طبقے کو اندر سے توڑ دیا ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جو فرد کے اندر بے حسی، غصے، بدظنی اور مزاحمتی رویوں کو جنم دیتی ہے۔ ڈیجیٹل دور کے نوجوان اپنے اردگرد کی دنیا سے باخبر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں نوجوانوں کو قیادت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور معاشی فیصلوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس شعور کے باوجود جب وہ اپنے ملک میں بے قدری اور استحصال دیکھتے ہیں تو ان کے اندر بغاوت کا جذبہ پیدا ہونا فطری عمل ہے۔
پاکستان میں نوجوانوں کو سیاست میں شریک کرنے کے بجائے ان سے صرف ووٹ اور جلسوں کا کام لیا گیا۔ نوجوانوں کو حقیقی سیاسی شعور دینے، تنظیمی تربیت فراہم کرنے یا لیڈرشپ کی سطح پر کردار دینے کی کوئی پالیسی نہ بن سکی۔ اس کی بجائے حکمران طبقہ نے نوجوانوں کو خیراتی منصوبوں یا عارضی امدادی اسکیموں تک محدود کر دیا، جس سے نوجوانوں میں خودانحصاری کے بجائے انحصار پسندی کا رجحان بڑھا۔ نظامِ سیاست نے نوجوانوں کو اپنی شناخت سے محروم کر دیا۔ وہ اب کسی جماعت یا لیڈر سے نہیں بلکہ اپنے مسائل سے وفادار ہیں۔ جب حکمران طبقہ اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دیتا ہے تو نئی نسل کا سیاسی اعتماد متزلزل ہونا لازمی امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج نوجوان سیاست سے لاتعلق نہیں بلکہ سیاست سے بدظن ہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ جب نوجوانوں کو ریاستی پالیسیوں میں باعزت نمائندگی نہیں ملتی تو وہ تین رویے اختیار کرتے ہیں۔ پہلا بیزاری اور کنارہ کشی، یعنی سیاسی عمل سے لاتعلقی۔ دوسرا احتجاج اور مزاحمت، یعنی نظام کے خلاف ردِعمل۔ اور تیسرا ہجرت اور فرار، یعنی بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ دینا۔ پاکستان میں یہ تینوں رجحانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نوجوانوں کا بیرونِ ملک جانا، سوشل میڈیا پر احتجاجی رویہ، اور ملکی سیاست سے بیزاری سب اسی ناکام نظامِ گورننس کا نتیجہ ہیں۔
حکومت اور ریاستی ادارے نوجوانوں کو غیر سنجیدہ اور جذباتی کہہ کر ان کے اصل مسائل سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ حالانکہ جذبات نوجوانی کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہیں جنہیں درست سمت میں لگایا جائے تو وہ انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ موجودہ نظام کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے سے خوفزدہ ہے، کیونکہ نوجوان سوال کرتے ہیں، جواب مانگتے ہیں اور منافقت کو قبول نہیں کرتے۔ یہی شعور روایتی اشرافیہ کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے سیاسی جماعتوں میں مخصوص نمائندگی اور تربیتی ادارے قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ قیادت کے عمل میں براہ راست شامل ہوں۔ تعلیمی نظام میں فکری تربیت، تنقیدی سوچ اور قومی خدمت کے مضامین شامل کیے جائیں تاکہ نوجوان صرف روزگار نہیں بلکہ ذمہ داری کا شعور بھی حاصل کریں۔ معاشی طور پر نوجوانوں کے لیے کاروبار، اختراع اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ خود مختار بن سکیں۔ نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارت کو ریاستی پالیسیوں کے ساتھ جوڑ کر ایک علم پر مبنی معیشت تشکیل دی جائے اور ریاستی بیانیے کو اس طرح تبدیل کیا جائے کہ نوجوانوں کو محض ہجوم نہیں بلکہ مستقبل کے معمار سمجھا جائے۔
پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے، لیکن جب تک نظامِ حکومت نوجوانوں کو محض ایک سیاسی آلہ سمجھتا رہے گا، یہ ملک فکری، معاشی اور سیاسی طور پر زوال سے باہر نہیں نکل سکے گا۔ نوجوانوں کی طاقت کو دبانے کے بجائے اسے اعتماد، انصاف اور مواقع کے ذریعے آزاد کرنا ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان تحریک انصاف اور تحریک لبیک پاکستان کے نوجوانوں کے ساتھ کیے گئے سلوک نے ملکی 60 فیصد یوتھ میں مزید بے چینی اور ناامیدی پیدا کر دی ہے۔ ریاستی اداروں کا ایسا رویہ نہ صرف قومی اعتماد کو مجروح کر رہا ہے بلکہ خاندانوں کو رسوا اور نوجوانوں کو تعلیمی نقصان پہنچا رہا ہے۔ ان کے والدین جدید تعلیم، سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے اس تیز رفتار دور کے تقاضوں کے مطابق ان کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھنے اور سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ حکومتی سطح پر نوجوانوں کی نفسیات کے برعکس برتاؤ خدا نہ کرے کسی شدید ردعمل کا سبب بن سکتا ہے، جو مستقبل میں ریاست کے لیے ایک اور بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔









