Light
Dark

فلسطینی وزیر اعظم نے غزہ کی بحالی کیلئے منصوبہ پیش کردیا

فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 3 مراحل پر مشتمل 5 سالہ منصوبہ پیش کر دیا ہے۔
فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے جمعرات کو اقوامِ متحدہ اور سفارتی حکام سے ملاقات کی اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا، جس کا مقصد جنگ سے تباہ حال علاقے کو دوبارہ آباد کرنا اور اسے ریاستِ فلسطین کا فعال، مربوط اور ترقی یافتہ حصہ بنانا ہے۔
فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ “میں چاہتا ہوں کہ 12 ماہ بعد فلسطینی اتھارٹی غزہ میں مکمل طور پر فعال ہوجائے،” یہ بیان انہوں نے غزہ میں امریکی ثالثی سے ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے چند دن بعد دیا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد نہیں کیا گیا، اور اس میں فلسطینی اتھارٹی کو اصلاحات مکمل کرنے کے بعد کردار ادا کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
لیکن اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف لڑنے کے عزم کا ظاہر کیا ہے اور جنگ کے بعد غزہ پر رام اللہ میں مقیم فلسطینی اتھارٹی کی حکمرانی کے امکان کو تقریباً مسترد کر دیا ہے۔
اس کے باوجود فلسطینی وزیر اعظم مصطفیٰ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کے لیے ایک پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے جو تین مراحل میں نافذ ہوگا اور اس کے لیے رہائش، تعلیم، گورننس سمیت 18 مختلف شعبوں کے لیے 65 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ مصر اور اردن کے ساتھ پولیس تربیتی پروگرام پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں، یہ منصوبہ مارچ 2025 میں قاہرہ میں عرب ممالک کے سربراہی اجلاس میں طے پانے والے معاہدوں پر مبنی ہے۔
فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے رام اللہ میں اپنے دفتر سے فلسطینی وزرا، اقوامِ متحدہ کے اداروں کے سربراہان اور سفارتی مشنز کے سربراہان کے ایک اجلاس سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہمارا نظریہ واضح ہے۔
محمد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ غزہ کو ریاستِ فلسطین کا ایک کھلے، مربوط اور ترقی پذیر حصے کے طور پر تعمیرِ نو کیا جائے گا جبکہ یورپی یونین کے ساتھ محفوظ عبوری آپریشنز، کسٹمز کے نظام اور مربوط پولیسنگ یونٹس پر تکنیکی مذاکرات جاری ہیں