ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ امن قائم رکھنے کے لیے سارا بوجھ فلسطینیوں اور حماس پر ڈالنا درست نہیں ہوگا۔ اسرائیل کو امن کے قیام کے لیے حملے بند کرنا ہوں گے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ امن کوئی ایسی چڑیا نہیں جو ایک پر سے اڑ سکے یہاں امن کے قیام بنائے رکھنے کی تمام تر ذمہ داری حماس اور فلسطینیوں پر ڈال دی گئی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے معاہدہ طے ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جاری بیان میں کہا ہے کہ غزہ پر جنگ کے خاتمے، قابض افواج کے انخلا، امداد کے داخلے اور قیدیوں کے تبادلے پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔
حماس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت زندہ یرغمالیوں کے بدلے دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گی، یرغمالیوں کا تبادلہ معاہدہ نافذ ہونے کے بہتر گھنٹوں میں عمل میں آئے گا۔
حماس نے قطر، مصر، ترکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ثالثی کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا اور مطالبہ کیا کہ فریق قابض حکومت کو معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد کا پابند بنائیں۔
حماس نے بیان میں مزید کہا غزہ کے عوام نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، جب تک آزادی، خودمختاری اور حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا، ہم اپنے عوام کے قومی حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا، جس کا مقصد اس تباہ کن تنازع کو ختم کرنا ہے جس میں دسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی جبکہ اسرائیل اپنی افواج کو ایک طے شدہ لائن تک پیچھے ہٹا لے گا۔ حماس 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔









