Light
Dark

بیرون ملک مقیم پاکستانی فائلر ہوں گے یا نان فائلر؟ اسحاق ڈار نے بتادیا

تفصیلات کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے قونصلیٹ جنرل نیویارک میں نئے سروس ایریا کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تزئین و آرائش کے بعد قونصل خانے کی عمارت کو نئی زندگی ملی ہے، قونصلیٹ جنرل کی عمارت بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے اپنے گھر کی حیثیت رکھتی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مشنز کا بنیادی مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو باوقار، موثر اور بہترین خدمات فراہم کرنا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا فخر ہیں، وہ قومی ترقی میں شراکت دار اور ملک کے اصل سفیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل اور انہیں سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے، اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد کے تنازعات کے حل کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت ریکارڈ کرانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ مقدمات کی پیروی کے لیے انہیں پاکستان واپس نہ آنا پڑے جبکہ درخواستیں اور ضروری دستاویزات آن لائن جمع کرانے کی سہولت بھی دی جا رہی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایف بی آر کی جانب سے بطور فائلرز تسلیم کیا جائے گا جس سے ان کے بینکنگ اور کاروباری معاملات آسان ہوجائیں گے۔ اسی طرح ان کے بچوں کے لیے جامعات اور میڈیکل کالجز میں خصوصی کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب اور بلوچستان میں بورڈ آف ریونیو نے اوورسیز سہولت مراکز قائم کیے ہیں جبکہ ایئرپورٹس پر