عوامی راج پارٹی کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت ملتان نے مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے جعلی دستاویزات پیش کرنے پر جمشید دستی کو سات سال، سرکاری ملازمین کو غلط معلومات فراہم کرنے پر تین سال قید کی سزا سنائی۔
اس کے علاوہ ملزم کو جعلسازی پر 2 سال قید، جعلی کاغذات کو اصل کے طور پر استعمال کرنے کے جرم میں دو سال اور سرکاری ملازمین کو رشوت دینے کی کوشش پر تین سال قید کی سزا سنائی۔ الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کیخلاف جعلی ڈگری کا استغاثہ دائر کر رکھا تھا۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن میں جمشید دستی کے خلاف امیر اکبر کی جانب سے درخواست جمع کرائی گئی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جمشید دستی نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں اثاثے چھپائے اور جھوٹی تعلیمی تفصیلات درج کیں۔ دستی نے کاغذاتِ نامزدگی میں ایف اے لکھا جبکہ وہ تو میٹرک پاس بھی نہیں ہیں۔
الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد مذکورہ حلقہ میں ضمنی الیکشن کے شیڈول کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق 10 ستمبر کو پولنگ ہونی تھی۔
دوسری جانب جمشید دستی نے اپنی نا اہلی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے ضمنی الیکشن کا شیڈول معطل کر دیا تھا









