Light
Dark

پاکستان ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کا بائیسواں اجلاس کامیابی سے مکمل

اسلام آباد (17 ستمبر 2025): پاکستان ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کا بائیسواں اجلاس کامیابی سے مکمل اختتام پذیر ہوگیا جس میں دونوں ممالک نے 17 معاہدوں اور پروٹوکولز پر دستخط کیے۔
پاکستان اور ایران کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کا 22واں اجلاس 15 تا 16 ستمبر 2025 کو تہران میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی وزیر برائے سڑکیں و شہری ترقی فرزانہ صادق نے کی۔
اجلاس میں دونوں ممالک میں سرحدی مارکیٹوں کے قیام اور انہیں فعال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ صحت، ثقافت اور ویزا سہولت کاری بھی معاہدوں میں شامل ہے جبکہ میڈیا تعاون کے فروغ کیلیے پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے۔ ٹیرف سڑکوں اور ریلوے رابطوں سمیت اہم شعبوں میں پیشرفت ہوئی ھے
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر سالانہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے، بارڈر مارکیٹس کو فعال کرنے اور باقاعدہ کاروباری اجلاسوں کے فروغ پر زور دیا۔
پاکستان اور ایران نے توانائی اور بنیادی ڈھانچہ کے شعبے میں بجلی کے تبادلے کو بڑھانے، گوادر کیلیے 220 کے وی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر دوبارہ شروع کرنے اور قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کی تلاش پر بھی اتفاق کیا۔
اجلاس دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ثابت ہوا جس نے باہمی خوشحالی اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کے عزم کو اجاگر کیا۔
اجلاس میں دوطرفہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے تعاون کیلیے جامع فریم ورک پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں وزراء نے اپنی اپنی حکومتوں کی جانب سے پروٹوکولز پر دستخط کیے۔ اجلاس کے تکنیکی سیشنز کی قیادت پاکستان کی جانب سے سیکرٹری وزارتِ اقتصادی امور محمد حُمیر کریم جبکہ ایران کی طرف سے ڈاکٹر امین طرفو، سینئر ایڈوائزر برائے وزیر شہری ترقی اور سربراہ بین الاقوامی امور نے کی۔
دونوں ممالک کے ماہرین نے تفصیلی مذاکرات کے بعد پروٹوکول کے مسودے کو حتمی شکل دی۔ اجلاس کے نمایاں نتائج میں قیادت کی جانب سے طے کردہ 10 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے عزم کا اعادہ شامل ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے، بارڈر مارکیٹس کو فعال کرنے اور باقاعدہ کاروباری اجلاسوں کے فروغ پر زور دیا گیا۔