پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و ماڈل نادیہ حسین، سامعہ حجاب کے دفاع میں آگئیں۔
ہوا کچھ یوں کہ جب سوشل میڈیا انفلوئنسر سامعہ حجاب کے ساتھ مبینہ طور پر ایک شخص کے ہاتھوں اغوا کی کوشش کی خبر سامنے آئی، تو اس موقع پر جہاں کئی صارفین نے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اور تشدد کی مذمت وہی بہت سے صارفین نے غیر مصدقہ افواہوں کو جواز بنا کر وکٹم بلینمنگ شروع کر دی۔
تاہم نادیہ حسین نے اپنے جذبات کرتے ہوئے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر قسم کے تشدد کی مذمت ہونی چاہیے، چاہے دو افراد ڈیٹنگ کر رہے ہوں، منگنی ہو یا شادی شدہ ہوں۔
انہوں نے کہا رشتوں میں لوگ مختلف مراحل سے گزرتے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں، منگنی کرتے ہیں، یا شادی ہیں، رشتے کے کسی بھی مرحلے میں، جب بدسلوکی ہوتی ہے، تو بات بدسلوکی پر ہونی چاہیے!۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر رشتے میں، چاہے 20 یا 40 سال بعد بھی، بدسلوکی ہوئی ہو، خواہ وہ جسمانی، زبانی، جذباتی یا مالی ہو، یہ بالکل ناقابل قبول ہے اور اس پر بات ہونی چاہیے۔
نادیہ حسین نے کہا کہ سمیعہ درست کہتی ہیں کہ اگر وہ تعلقات میں بھی تھیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جسمانی طور پر ہراساں ہو سکتی ہیں، اگر وہ اس رشتے کو جاری رکھنا نہیں چاہتی تھیں، تو انہیں اس کا حق تھا۔ یہی بات شادی شدہ عورت کے لیے بھی ہے اگر وہ بدسلوکی کی وجہ سے شادی جاری رکھنا نہیں چاہتی، تو اسے شادی ختم کرنے کا حق ہے۔
یہ پڑھیں: ثنا یوسف کی دوست سامعہ حجاب کو شادی سے انکار پر اغوا کرنے کی کوشش
نادیہ نے سوال کیا کہ ہم عورت کو موردِ الزام ٹھہرانے، اس کے دعوے میں خامیاں ڈھونڈنے، اور اسے کسی نہ کسی طرح ولن بنانے پر کیوں اڑے ہوئے ہیں، کیونکہ وہ کسی کے ساتھ رشتے میں تھی؟ اگر کوئی عورت شادی سے پہلے کسی کو جاننا چاہتی ہے، تو اس میں کیا غلط ہے؟
انہوں نے کہا کہ اس قسم کی چھان بین لڑکیوں کو ہراسانی، تشدد، یا عصمت دری کے خلاف آواز اٹھانے سے روکتی ہے، یہ سب اس لیے ہے کہ ہم بطور معاشرہ یہ قبول کرنے کو تیار نہیں کہ کوئی لڑکی آواز اٹھائے اور اسے انصاف ملے۔
اداکارہ نادیہ حسین نے زور دیا کہ “براہ کرم اصل مسئلے پر توجہ دیں، جو کہ بدسلوکی ہے، غیر اہم چیزوں پر نہیں۔”
ماڈل نے کہا کہ اگر مرد رشتے میں کسی قسم کی بدسلوکی کا شکار ہیں، تو وہ بھی آواز اٹھا سکتے ہیں، لیکن کس بھی بات کا حل تشدد نہیں ہے، اگر مرد کو رشتے میں کوئی مسئلہ ہے، اگر کوئی چوری یا دھوکہ ہوا ہے، تو اسے بھی بولنے سے کوئی نہیں روک رہ








