بھارت کی شمالی ریاستوں میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، رہاست ہماچل کو آفت زدہ قرار دیدیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی ریاست پنجاب، ہماچل پردیش، دہلی، اترپردیش اور اتراکھنڈ بارشوں سے متاثر شدید متاثر ہیں، بھارتی ریاست پنجاب کے بارہ اضلاع میں سینکڑوں مکانات اور سڑکیں زیر آب آ گئیں جس سے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ریاست ہماچل پردیش کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا، ہماچل پردیش میں مختلف حادثات کے باعث تین سو بیس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔
دہلی میں دریائے جمنا میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے بڑھ گئی ہے، دہلی میں بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جس کے باعث اسکولز اور دفاتر بھی بند کر دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق چندی گڑھ میں سکھنا جھیل کے فلڈ گیٹ کھول دیئے گئے، ریاست ہریانہ اور گروگرام شہر میں سو ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے بھارت میں آئندہ سات روز تک مزید شدید بارشوں کی پیشگوئی کر دی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں مون سون کا موسم اپنے عروج پر ہے، ستمبر 2025 میں بھی شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انڈین میٹیورولوجیکل ڈپارٹمن کے مطابق ستمبر میں ملک بھر میں 109 ملی میٹر سے زائد بارش متوقع ہے، بھارت کی کئی ریاست پہلے ہی شدید سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمال مغربی علاقوں جیسے پنجاب، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، جموں و کشمیر، دہلی، ہریانہ، راجستھان اور اتر پردیش میں صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے۔ اس نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے، جہاں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ فصلیں، سڑکیں، ریل اور بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہو گیا ہے









