اسٹیٹ بینک نے جولائی 2025ء کے لیے آٹو فنانسنگ کے تازہ اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق اس مہینے میں آٹو فنانسنگ میں سالانہ 25.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2025ء میں آٹو فنانسنگ کا حجم 286 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ رقم 228 ارب روپے تھی۔
ماہانہ بنیادوں پر بھی آٹو فنانسنگ میں 3.3 فیصد کی نمو دیکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑیوں کے قرضوں کی مانگ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
دوسری طرف، ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر کمرشل گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی خریداری ملکی زرمبادلہ ذخائر میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ زرمبادلہ کے تحفظ کے لیے فیول راشننگ پر غور کرے۔
علاوہ ازیں، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں پائیدار معاشی نمو کے لیے ماس ٹرانزٹ سسٹم پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کی طرف راغب ہوں اور غیر ضروری درآمدات اور توانائی کی کھپت کم ہو۔
اس شرح سود میں بتدریج کمی اور معاشی بحالی کے بڑھتے آثار کی بدولت تنخواہ دار طبقے کے لیے گاڑی خریدنا ممکنہ طور پر آسان ہوتا جا رہا ہے۔









