Light
Dark

یورپی ملک کا یوٹیوب اور گوگل سے اسرائیلی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

صہیونی قابض ریاست اسرائیل کے فلسطینی عوام پر وحشیانہ مظالم کے خلاف دنیا بھر میں آواز بلند کی جا رہی ہے اور کئی یورپی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے جب کہ کچھ ممالک اسرائیل پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔
یورپی ملک پولینڈ کی جانب سے صہیونی ریاست پر پابندی سے متعلق ایک نیا مطالبہ سامنے آیا ہے، جس میں دنیا کے سب سے مقبول سرچ انجن گوگل اور یوٹیوب سے اسرائیلی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پولش ویب سائٹ ٹی وی پی ورلڈ کے مطابق پولینڈ انسٹی ٹیوشن ناسک کی جانب سے اس حوالے سے گوگل اور یوٹیوب کو ایک رپورٹ بھی جمع کرا دی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اشتہارات غزہ میں قحط سے انکار کر رہے ہیں۔ گوگل اشتہارات اور ویڈیوز میں جھوٹا مواد شامل ہے، جب کہ یوٹیوب پر پھیلنے والا مواد کمیونٹی گائیڈ لائنز کے خلاف ہے۔
واضح رہے کہ قابض ریاست اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری وحشیانہ فضائی حملوں نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
ایک جانب صہیونی فوج کی جانب سے تمام جنگی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسپتالوں، رہائشی عمارتوں، بچوں، خواتین، اسکولز، پناہ گزین کیمپوں عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایک جانب اسرائیلی بربریت اور دوسری جانب امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے جہاں بارود انسانی زندگیاں ختم کر رہی ہے۔ وہیں بھوک کا عفریت بھی معصوم فلسطینیوں کی جان لے رہا ہے۔
اسرائیلی جارحیت سے اب تک مجموعی طور پر 64 ہزار 905 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جب کہ بھوک اور قحط نے 425 انسانی جانوں کو نگل رہا ہے۔ ان میں اکثریت کم سن بچوں اور خواتین کی ہے۔ جب کہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 64 ہزار