اسلام آباد (5 نومبر 2025): وزیر اعطم شہباز شریف نے پارلیمنٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے پر اتفاق رائے کیلیے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اہم ٹاسک دے دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر ایاز صادق نے آج تمام پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس شام 4 بجے بلا لیا، اجلاس میں پی ٹی آئی، جے یو آئی (ف)، اتحادی جماعتوں کے چیف وہپس اور پارلیمانی لیڈرز کو شرکت کی دعوت دے دی گئی۔
اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے متعلق حکمت عملی طے کی جائے گی، شرکا کو اس کے خدوخال سے آگاہ کیا جائے گا جبکہ اسپیکر ایاز صادق تمام جماعتوں سے ترمیم کی حمایت کی درخواست کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی رہنماؤں سے اپنے چیمبر میں الگ الگ بھی ملیں گے، اتفاق رائے نہ ہوا تو حکومت اپنی نمبرز گیم پر انحصار کرے گی۔
مسلم لیگ (ن) اور اتحادی اراکین قومی اسمبلی کو فوری اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کر دی گئی، حکمران اتحاد کو آئینی ترمیم منظور کروانے کیلیے مطلوبہ 224 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم 7 نومبر کو سینیٹ میں پیش ہونے کا امکان ہے، اس پر دونوں ایوانوں میں بحث کروائی جائے گی جس کے بعد 10 نومبر کو منظوری کیلیے رائے شماری کا امکان ہے۔
27ویں آئینی ترمیم پر جمعہ اور ہفتہ کے روز بحث کروائی جائے گی اور آئینی ترمیم پیش ہونے کے بعد متعلقہ کمیٹی کو بھجوائی جائے گی، سینیٹ کا اجلاس 14 نومبر تک جاری رہے گا۔
ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 125 ہے تاہم اگر پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دیتے ہیں تو مجموعی طور پر 237 ووٹ ہو جائیں گے، ایم کیو ایم پاکستان کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5، استحکام پاکستان پارٹی کے 4 اور مسلم لیگ ضیا، نیشنل پارٹی اور باپ پارٹی کے تین ارکان شامل ہیں۔









