بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ بھارت کی روسی تیل خریداری پر امریکی 25 فیصد جرمانہ ٹیرف درست فیصلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر پیوٹن پر اضافی دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے بھارت کی روسی تیل و دفاعی سامان کی خریداری یوکرین جنگ کو ایندھن دے رہی ہے۔
گزشتہ دنوں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تیل کی خریداری کے حوالے سے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد تجارتی مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کو بھارت میں ہونے والی کواڈ سمٹ میں شرکت کرنا تھی لیکن اب انہوں نے دورہ منسوخ کردیا ہے۔بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی روابط اور ٹیرفس کے حوالے سے کافی دنوں سے مذاکرات جاری تھے اور نئی دہلی کا کہنا تھا کہ وہ بات چیت کے ذریعے ان تمام مسائل پر قابو پا لے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ بھارت نے ٹیرف صفر کرنے کی پیشکش کی لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے یاد دلایا کہ امریکا بھارت سے کم لیکن بھارت امریکا سے بہت زیادہ بزنس کرتا ہے، بھارت نے امریکا پر سب سےزیادہ ٹیرف عائد کر رکھا تھا جس سےنقصان ہوا، کئی دہائیوں سے یکطرفہ تعلق امریکا کےلیے نقصان دہ رہا ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ بھارت تیل اور دفاعی مصنوعات زیادہ تر روس سے خریدتا ہے امریکا سے نہیں









