افغان طالبان حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے تعزیری سزاؤں کے نئے ضابطۂ قانون کو افغان عوام سمیت عالمی برادری نے مسترد کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین اور سابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ شہری آزادیوں کو دبانے اور معاشرے کو خوف کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔اقوامِ متحدہ میں افغانستان کے لیے انسانی حقوق کے نمائندے رچرڈ بینیٹ نے خبردار کیا کہ اس دستور کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے اور اس سے انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔









