Light
Dark

شبیر تنولی نے کمرہ عدالت میں بھی بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعترافی بیان ریکارڈ کرا دیا

شہر قائد میں متعدد بچیوں سے زیادتی کرنے والے سفاک ملزم شربت فروش شبیر تنولی نے کمرہ عدالت میں بھی بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعترافی بیان ریکارڈ کرا دیا۔
تفصیلات کے مطابق پیسوں کا لالچ دے کر بچوں سے زیادتی کے کیس میں سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ملزم شبیر تنولی کا 6 مقدمات میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ملزم شبیر تنولی نے 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیا۔
ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ بچوں کو پیسوں کا لالچ دے کر کمرے یا جھاڑیوں میں زیادتی کا نشانہ بناتا تھا، ملزم کا اعترافی بیان کمرہ عدالت میں ریکارڈ کیا گیا، بیان ریکارڈ کرانے سے قبل عدالت نے ملزم شبیر کو 2 گھنٹے سوچنے کا بھی وقت دیا۔
مجسٹریٹ نے استفسار کیا کہ پولیس کی جانب سے تمھیں تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا گیا یا مارا تو نہیں؟ ملزم نے جواب دیا نہیں مجھے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا، عدالت نے کہا آپ بیان دیں یا نہ دیں آپ کو جیل کسٹڈی کر دیا جائے گا، آپ کا بیان آپ کے خلاف جا سکتا ہے، کسی دباؤ میں تو بیان نہیں دے رہے؟ ملزم نے جواب دیا میں کسی کے دباؤ میں بیان نہیں دے رہا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے ساتھ کوئی اور جرم میں شریک تو نہیں، ملزم نے کہا نہیں میرے ساتھ کوئی شریک جرم نہیں، جج نے کہا آپ کو 2 گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے سوچ سمجھ لیں، آپ کا بیان آپ کے خلاف جا سکتا ہے اور میں اس بیان کا گواہ بن جاؤں گا۔
ملزم نے کہا مجھے گرفتار ہوئے 8 دن ہو گئے ہیں، میرے ساتھ کوئی اور موجود نہیں تھا، بچے سے 2022 میں ملا اور پھر اس سے دوستی کی، بچیوں کو بھی پیسوں کا لالچ دے کر اپنے کمرے میں لے کر گیا ہوں، بچے اور بچیوں کو کئی بار کمرے میں لے کر گیا، اس کی ویڈیوز بھی بناتا تھا۔ ملزم نے بیان میں کہا میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔
کمرہ عدالت میں 6 مقدمات میں ملزم کا الگ الگ اقبالی بیان ریکارڈ کیا گیا، ملزم کو اقبالی بیان ریکارڈ کرنے کے بعد پڑھ کر سنایا بھی گیا، عدالت نے کہا ملزم نے اپنا جرم قبول کیا ہے، اور ملزم کا زیر دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ پر رکھ لیا گیا ہے