پنجاب میں آنے والی قیامت خیز تباہی سے تقریباً 5ہزار دیہات ڈوب گئے، بھوک پیاس سے بے حال سیلاب متاثرین اب وبائی امراض میں بھی مبتلا ہونے لگے۔
ملک میں سیلاب نے جہاں ہر صوبے میں تباہی مچائی ہے وہیں متاثرین کے مصائب و آلام کی دل دہلا دینے والی داستانیں سامنے آرہی ہیں، جہاں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
سیلاب نے متاثرین کی زندگی اتنی مشکل بنا دی ہے کہ متاثرین کے بھوک اور پیاس سے سسکتے اور مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔
مظفر گڑھ کے لکی بند کے پاس ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہونے والے متاثرین خیمے لگائے بیٹھے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے پاس کھانے پینے کا سامان بھی نہیں، سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ دن بھر میں ہم صرف ایک وقت کا کھانا بھی بڑی مشکل سے کھاتے ہیں، اپنے گھروں کو بھی نہیں جاسکتے۔
ایک شخص نے بتایا کہ انتظامیہ صرف ایک وقت کا کھانا دیتی ہے اور دوبارہ کوئی پوچھنے بھی نہیں آتا، انہوں نے کہا کہ مچھر دانیاں نہ ہونے سے بچوں سمیت ہزاروں افراد بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں









