نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے میں دیگر ممالک بھی شمولیت کے خواہاں ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ تاریخی ہے۔
یہ معاہدہ راتوں رات طے نہیں پایا اس میں کئی ماہ کا عرصہ لگا ہے، دیگر ممالک بھی اس طرح کے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے سے دونوں ممالک بہت خوش ہیں، دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ تو ہمیشہ سے موجود تھا۔
انھوں نے کہا کہ ہر مسلمان حرمین شریفین سے گہری عقیدت رکھتا ہے اور اس پر قربان ہونے کے لیے تیار رہتا ہے۔
اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں، معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتی ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بھائی چارے اور تعاون کی منفرد مثال ہیں۔
پاکستانی عوام کو سرزمین حرمین شریفین سے خاص عقیدت ہے،1960 کی دہائی سے دفاعی تعاون پاکستان سعودی تعلقات کا بنیادی ستون رہا ہے، دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کی خطے میں سلامتی، امن اور مضبوط دفاعی تعاون کے مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔
اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی کی جانے والی جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا جس سے باہمی اعتماد اور مشترکہ دفاع کے عزم کی وسعت واضح ہوتی ہے۔









