Light
Dark

نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضط کرنے کا انکشاف

صوبائی ایکسائز اور پولیس کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضط کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس کی تحقیقات شروع ہوگئی۔
صوبائی ایکسائز اور پولیس کی جانب سے نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضط کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد فیڈرل ٹیکس محتسب(ایف ٹی او )نے نان کسٹم پیڈ ضبط شدہ گاڑیاں فوری طور پرکسٹم ہاؤس کے حوالے کرنےکی ہدایت کردی۔
 ایف ٹی او نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر تحقیقات ایف ٹی او آر ڈیننس کے تحت شروع کی، ایف ٹی او رپورٹ میں بتایا گیا ہے صوبائی ایکسائز اور پولیس کی کارروائیوں سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
ایف ٹی او نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی غیر قانونی ضبطی پر نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی، یہ تحقیقات فیڈرل ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000 کے سیکشن 9(1)کے تحت شروع کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی ایکسائز اور پولیس حکام کی جانب سے این سی پی گاڑیاں صوبائی قوانین کے تحت ضبط کرنے کا انکشاف ہوا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی کارروائیوں سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
ایف ٹی او رپورٹ کے مطابق نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا معاملہ صرف پاکستان کسٹمز کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اس لیے ضبط شدہ گاڑیاں فوری طور پر قریبی کسٹم ہاؤس کے حوالے کریں، یہ صوبائی قوانین آئین کے آرٹیکل 143 اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی خلاف ورزی ہیں۔
ایف ٹی او کا کہنا ہے کہ غیر قانونی صوبائی رولز عدالتی فیصلوں سے بھی متصادم ہیں، ایف ٹی او نے ایف بی آر کو صوبائی رولز کی منسوخی کیلئے وزارتِ قانون سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
ایف ٹی او نے تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، ڈی جی ایکسائز اور آئی جیز کو باضابطہ ہدایت جاری کرنے کی سفارش کی ہے، ایف ٹی او نے کسٹمز ایکٹ کے سیکشن 170(2) میں ترمیم کی تجویز دینے کا بھی حکم دیا ساتھ ہی 90 دن میں عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی ہے۔