ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان ٹیم اچھا آغاز ملنے کے باوجود مکمل 20 اوورز بھی نہ کھیل سکی اور پوری ٹیم 19.1 اوورز میں صرف 146 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔
میچ میں پاکستان کی بیٹنگ کے فلاپ شو پر سابق قومی کرکٹرز نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل نے کہا کہ سلمان علی آغا، صائم ایوب اور حسین طلعت کو ٹی 20 میں نہیں ہونا چاہیے۔ میرا بس چلے تو میں ان تینوں کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکال دوں۔
کامران اکمل کا کہنا تھا کہ سلمان علی آغا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا کھلاڑی نہیں اور اس کو قیادت دے دی گئی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہماری ٹیم صرف فارمیلٹی پوری کرنے گئی ہے۔
سابق وکٹ کیپر بلے باز کا کہنا تھا کہ بچوں کو بھی میچ کا پتہ ہوتا ہے کہ 10 اوررز میں اگر اتنا اسکور بن جائے تو اگلے دس اوورز میں کتنا اسکور بنا سکتے ہیں۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ نہ ہیڈ کوچ اور نہ ہی کپتان کا دماغ چل رہا ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ جیسا آغاز ملا تو شاہین اور نواز کو اوپر بھیجنا چاہیے تھا، لیکن ایسے بیٹر بھیجے جو فارم میں نہیں ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک میچ میں غلطی سمجھ آتی ہے، لیکن پاکستان ٹیم نے تینوں میچوں میں بڑی غلطیاں کیں۔ بھارت کے خلاف تیسرے میچ میں بھی گزشتہ میچ کی غلطیاں دہرائیں۔ ایسا لگتا ہے کہ قومی ٹیم نہیں بلکہ کسی اسکول کی ٹیم گئی ہوئی ہے اور صارف فارملیٹی پوری کر رہی ہے۔
کامران اکمل کا مزید کہنا تھا کہ آج اچھا آغاز ملا تھا تو اننگ کا اختتام بھی اچھا ہونا چاہیے تھا۔ چاہے آج پاکستان جیت بھی جائے، لیکن ہیڈ کوچ سے متعلق سوچنا پڑے گا۔ ہم اگر آج فیصلے نہیں کریں گے تو ہماری ٹیم کا لیول اور زیادہ نیچے جائے گا۔









