Light
Dark

جماعت اسلامی بنگلا دیش کا شیخ حسینہ کے خلاف فیصلے کا خیر مقدم

ڈھاکا: جماعت اسلامی بنگلا دیش نے شیخ حسینہ کے خلاف فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
میڈیا کو جاری بیان میں جماعت اسلامی نے سابق وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو سزائے موت کا حکم شفاف اور غیرجانبدار قرار دیا۔
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی بنگلا دیش میاگولام پروار نے فیصلےکا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ثابت ہوا کوئی سربراہ حکومت یا طاقتور سیاسی رہنما قانون سے بالاتر نہیں، فیصلہ ان  کیلئے تسلی کا باعث ہےجنہوں نے تحریک میں اپنے پیارے کھوئے۔
سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ماضی میں ہمارے رہنماؤں کیخلاف ٹرائل سیاسی بنیاد پر تھے آج کافیصلہ تمام دستاویزی شواہد کی بنیاد پر کھلےعام سنایا گیا۔بنگلہ دیش نے بھارت سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا
قبل ازیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حسینہ واجد کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‏بنگلا دیش میں آج جو واقعہ پیش آیا ہے وہ پوری دنیا کے لیے ایک ایسا عبرت ناک درس ہے جو روزِ روشن کی طرح واضح ہے، بھارتی پروردہ شیخ حسینہ واجد، نے اقتدار کے پندرہ برسوں میں جس طرح جھوٹے مقدمات کی سیاست کو فروغ دیا، عدالتی فیصلوں کو انتقام کا ہتھیار بنایا اور فسطائیت پر مبنی طرزِ حکمرانی اپنائی، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ بھارت کی سرپرستی اور اُس کی ہدایات پر قومی مفادات کا سودا کرنے کے باوجود وہ نہ نئی نسل کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں، نہ ہی عوامی لیگی فسطائیت کو دائمی بنا سکیں۔ آج، بالآخر، اُسی کے قائم کردہ خصوصی ٹریبونل نے حسینہ واجد کے خلاف انتہائی سزا کا فیصلہ سنایا ہے—وہی عدالت جس کے ذریعے اُنہوں نے بے شمار محبِ اسلام اور محبِ وطن شخصیات کو یک طرفہ مقدموں کے عبرتناک ڈرامے کے بعد پھانسیوں کے تختے پر چڑھایا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ منظر نامہ اُن تمام جابروں، ظالموں، جھوٹ اور ظلم پر مبنی حکمرانی چلانے والوں، اور عدل و انصاف کا خون کرنے والوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے کہ انجام بالآخر سب کے سامنے آتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم آج اُن تمام مظلوموں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے یہ ستم برداشت کیے، اور بنگلا دیش کی ترقی، خوش حالی اور اسلامی تشخص کے استحکام کے لیے دُعا گو ہیں۔
بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کی جانب سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت سے باضابطہ طور پر شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔