اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے میں مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ کی تعمیر نو سمیت امدادی سامان کی فراہمی بھی شامل ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے معاہدے کا اعلان صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ امن کے طویل المدتی اور پائیدار سفر کی پہلی بڑی پیشرفت ہے، معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی جلد رہائی عمل میں لائی جائے گی، فریقین کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے تحت ممکنہ طور پر ہفتہ یا اتور کو اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ شروع ہو جائے گا۔
اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کو ممکنہ طورپر پیر کو رہا کیا جائیگا۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے معاہدہ طے ہونے کی تصدیق کردی۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جاری بیان میں کہا ہے کہ غزہ پر جنگ کے خاتمے، قابض افواج کے انخلا، امداد کے داخلے اور قیدیوں کے تبادلے پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔
حماس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت زندہ یرغمالیوں کے بدلے دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گی، یرغمالیوں کا تبادلہ معاہدہ نافذ ہونے کے بہتر گھنٹوں میں عمل میں آئے گا۔
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم
حماس نے قطر، مصر، ترکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ثالثی کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا اور مطالبہ کیا کہ فریق قابض حکومت کو معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد کا پابند بنائیں۔
حماس نے بیان میں مزید کہا غزہ کے عوام نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، جب تک آزادی، خودمختاری اور حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا، ہم اپنے عوام کے قومی حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔









