پاکستان اور افغانستان کے تعلقات جنوبی ایشیا کی سب سے پیچیدہ سفارتی حقیقتوں میں سے ایک ہیں۔ دونوں ممالک تاریخ، ثقافت اور مذہب کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں، لیکن بداعتمادی کی ایک طویل دیوار اب بھی ان کے درمیان حائل ہے۔
گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی، انسانی ہمدردی کے تحت امداد فراہم کی، اور ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کوششیں کیں۔ تاہم، سرحد پار سے بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تحریکِ طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغان سرزمین پر موجودگی نے اس تعلق کو شدید تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
اسلام آباد کی تشویش بے جا نہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر افغانستان کے اندر سے کی جاتی ہے۔ یہ صورتحال کابل کی اُس یقین دہانی کو غیر مؤثر بناتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے خطے کی سیاست کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
پاکستان نے اب تک تحمل اور سفارتی راستے کو ترجیح دی ہے۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے استنبول مذاکرات اسی جذبے کی علامت تھے کہ پاکستان امن کو ایک اور موقع دینا چاہتا ہے۔ تاہم، یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ طالبان وفد کے رویّے میں دوغلا پن واضح رہا — بظاہر وہ تعاون کی بات کرتے ہیں، مگر پسِ پردہ فیصلے کسی اور دباؤ کے تحت ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
ترکیہ کی تازہ سفارتی کوششیں حوصلہ افزا ہیں۔ باکو میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر رجب طیب ایردوان کی ملاقات سے یہ عندیہ ملا ہے کہ دونوں ممالک ایک نئے مکالماتی فریم ورک پر کام کر سکتے ہیں۔ دونوں قیادتیں اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں، اور پائیدار امن کے لیے اعتماد سازی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔
پاکستان کے لیے اب فیصلہ مشکل ضرور ہے، مگر واضح ہے۔ سفارت کاری جاری رہنی چاہیے، لیکن دفاعِ خودی کا حق غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کابل اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے میں ناکام رہتا ہے، تو پاکستان بین الاقوامی قانون اور علاقائی امن کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں حق بجانب ہوگا۔
آنے والے چند ہفتے اس تعلق کی سمت کا تعین کریں گے۔ افغانستان کے پاس موقع ہے کہ وہ یا تو ایک غیر متوقع ہمسایہ بن کر رہے، یا ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر سامنے آئے۔ خطہ مزید بداعتمادی اور خونریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک واضح فیصلے کریں — اور حقیقی تعاون کا آغاز کریں









