Light
Dark

غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی

واشنگٹن (7 نومبر 2025): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کے حوالے سے اہم بیان سامنے آگیا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ مجھے توقع ہے کہ غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس بہت جلد تعینات کی جائے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ غزہ کا معاملہ ابھی بہتر چل رہا ہے، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی طرف سے مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں طاقتور ممالک کا اتحاد رضاکارانہ طور پر مدد کیلیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مذکورہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے عبوری حکومتی ڈھانچے اور استحکام فورس کیلیے 2 سالہ مینڈیٹ کی منظوری کے مذاکرات شروع ہونے کی خبروں کے بعد سامنے آیا۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ کسی بھی استحکام فورس کو غزہ کے فلسطینیوں کی حمایت کیلیے مکمل بین الاقوامی قانونی جواز درکار ہے۔
دوسری جانب ایک سینئر امریکی حکومتی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ اس حوالے سے مذاکرات جمعرات سے شروع ہونے کی توقع ہے۔امریکا نے مسودہ قرارداد کو سلامتی کونسل کے 10 منتخب ارکان اور کئی علاقائی شراکت داروں کے ساتھ شیئر کیا۔ یہ مسودہ مصر، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ترکی نے دیکھا ہے۔
روئٹرز کے مطابق قرارداد میں 20,000 فوجیوں پر مشتمل استحکام فورس کو اپنا مینڈیٹ پورا کرنے کیلیے تمام ضروری اقدامات کی اجازت درکار ہوگی۔
واضح رہے کہ حماس نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ وہ غیر مسلح ہوگی یا نہیں لیکن استحکام فورس کا ایک کام اس کی صلاحیتوں اور عسکری ڈھانچے کو تباہ کرنا اور دوبارہ بننے سے روکنا ہوگا۔