پشاور (13 ستمبر 2025): صوبہ خیبر پختونخوا میں 75 فیصد فلور ملز بند ہونے کی وجہ سے آٹے کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا نعیم بٹ نے اپنے بیان میں کاہ کہ کے پی میں گندم کی پیداوار 12 لاکھ ٹن جبکہ ہماری ضرورت 52 لاکھ ٹن ہے، 40 لاکھ ٹن پنجاب سے گندم یا آٹے کی شکل میں آتی ہے۔
نعیم بٹ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گندم اور آٹے پر پابندی لگا کر چیک پوسٹس قائم کر دیں، کے پی میں 75 فیصد فلور ملز بند ہو چکی ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف سے درخواست ہے کہ غیر آئینی اور غیر قانونی پابندی کا نوٹس لیں۔
9 ستمبر 2025 کو کے پی اسمبلی میں پنجاب سے آٹے اور گندم کی ترسیل پر پابندی ہٹانے کی قرارداد منظور کی گئی تھی، قرارداد مشترکہ طور پر پیش کی گئی تھی۔
اسمبلی میں مشترکہ قرارداد پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ آٹے پر غیر آئینی پابندی نے صوبے میں بے چینی پیدا کی ہے۔
متن میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 151 صوبوں کے مابین آزادانہ تجارت کو فروغ دیتا ہے، ایوان آٹے پر عائد غیر آئینی پابندی کی مذمت کرتا ہے۔
قرارداد کے مطابق پنجاب حکومت فوری طور پر پابندی ہٹائے، خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا۔
دریں اثنا وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے گندم اور آٹے کی قلت پر اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ پورے ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ظاہر شاہ طورو نے کہا تھا کہ دیگر صوبوں میں اضافہ 50 فیصد ہوا، کے پی میں 68 فیصد اضافہ ہوا، پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ بنی۔









