Light
Dark

بی بی سی کے سربراہ کا استعفی کیا مغرب میں صحافت کا گلا گھونٹا جارہا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر اسامہ شفیق، برطانیہ

بی بی سی کے سربراہ (ڈائریکٹر جنرل) ٹم ڈیوی کو بالآخر مستعفی ہونے پر مجبور کردیا گیا۔ ان کے ساتھ ہی بی بی سی نیوز کی سربراہ ڈیبورہ ٹرنَس نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یوں ٹم ڈیوی ایک شاندار صحافتی کیرئیر کے بعد بی بی سی کی سربراہی سے رخصت ہوئے۔ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے بی بی سی سے منسلک تھے۔ ان کی صحافت پر ناقدین کی تنقید ان کو اعلیٰ صحافتی اقدار سے علیحدہ نہ کرسکی، حتیٰ کہ کنزرویٹو پارٹی بھی، جس میں کسی دور میں وہ فعال رہے، ان پر تنقید میں آگے رہی۔ حالیہ غزہ جنگ میں بی بی سی کے کردار پر اسرائیلی حکام نے شدید تنقید کی اور بی بی سی کو غزہ کی جنگ میں غلط کوریج اور جھوٹ پھیلانے کا مجرم بھی گردانا۔ ان حالات میں بھی ٹم ڈیوی اپنے صحافیوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ وہ جانتے تھے کہ اس کے کیا نتائج ان کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں، لیکن تمام تر تنقید کے باوجود غزہ کی جنگ میں حماس کو دہشت گرد قرار دے کر خبر کا آغاز کرنے سے لے کر اسرائیل کے اسپتالوں پر حملوں کی کوریج پر پڑنے والے دباؤ کو انہوں نے برداشت کیا اور حماس کو مزاحمت کار کے طور پر بی بی سی کی خبروں میں جگہ دی۔

چند مواقع پر یہ ضرور ہوا کہ شدید دباؤ پر بی بی سی کی ویب سائٹ پر کچھ مواد ایڈیٹ ہوا، لیکن اس سب کے باوجود بی بی سی کی کوریج نے ’’فوکس‘‘ اور ’’سی این این‘‘ کی طرح یک طرفہ کوریج نہیں کی۔ فلسطین کے حامیوں کی جانب سے بھی بی بی سی کو گوکہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن ٹم ڈیوی کا دم بی بی سی میں غنیمت تھا کہ انہوں نے بی بی سی کو فوکس نیوز نہیں بننے دیا۔

ٹم ڈیوی پر پے در پے وار ہوئے اور ان پر تنقید کے بعد مختلف حربے اُن کو ہٹانے کے لیے استعمال کیے گئے۔ ان پر حماس کی جانب داری تک کا الزام عائد کردیا گیا۔ اس کا آغاز تو غزہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی بی بی سی کی کوریج کے بعد ہوگیا تھا کہ جب 17 اکتوبر 2023ء کو اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان مارک ریجو نے بی بی سی کو متعصب قرار دیا اور الاہلی اسپتال پر حملے کو خود حماس کی جانب سے حملہ باور کرایا، لیکن بی بی سی نے اس کا بھانڈا پہلے ہی پھوڑ دیا تھا اور یہ ایک سنگین جنگی جرم کے طور پر دنیا نے دیکھ لیا۔

اس کے بعد بی بی سی پر دباؤ کا ایک اور دور آیا جب بی بی سی سے منسلک صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا، اور اس کا آغاز بھی میڈیا کے منظم دباؤ کے تحت ہوا۔ اس میں وہ میڈیا بروئے کار آیا جو اسرائیل کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔ گوکہ ان تحقیقات پر بی بی سی کو دونوں جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پھر بھی بی بی سی نے غزہ میں اپنے نمائندوں کے ذریعے کوریج جاری رکھی جو کہ اسرائیل کے لیے سوہان روح تھی۔ اسرائیل جہاں ایک جانب ’’الجزیرہ‘‘ کے صحافیوں کو چن چن کر قتل کرنے کے بعد الجزیرہ کی اسرائیل و فلسطین میں نشریات پر پابندی عائد کرچکا تھا، وہاں اب ایک معتبر میڈیا بی بی سی کی صورت میں موجود تھا جو نہ الجزیرہ تھا اور نہ فوکس نیوز… لہٰذا اس صورت میں بی بی سی کو ایک غیر جانب دار اور معتبر میڈیا سمجھا گیا اور اس کے نمائندوں کی غزہ میں موجودگی نے اس کی خبروں، تجزیوں اور تبصروں کو قابلِ اعتبار بنایا۔ غزہ جیسی جنگ میں کوئی بھی میڈیا ہو، وہ جنگ کی ہلاکت خیزیوں اور نقصانات کو رپورٹ نہ کرے تو کیا کرے؟ آپ جتنا بھی توازن برقرار رکھیں لیکن جب میڈیا یہ بتاتا ہے کہ اتنے بچے اور خواتین آج جان سے گئے تو یہ جان لینے کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ اسرائیل کی مشکل یہ تھی کہ بی بی سی کے صحافیوں کا قتلِ عام ایک طوفان کھڑا کردیتا، اور بی بی سی کی نشریات پر پابندی کا مطلب یہ ہوتا کہ اسرائیل ایک منظم نسل کشی کررہا ہے، لہٰذا ان دو ناممکنات میں راستہ یہ اختیار کیا گیا کہ بی بی سی کو دیگر طریقوں سے دباؤ میں لایا جائے۔ اس ضمن میں پہلا کام یہ ہوا کہ غزہ جنگ کے غزہ کے بچوں پر اثرات پر مبنی دستاویزی فلم
’’غزہ: جنگی زون میں کیسے زندہ رہیں‘‘۔
یہ فلم بی بی سی کے لیے ہویو فلمز نے بنائی تھی۔ فلم کا مرکزی خیال غزہ کے علاقے میں بچوں اور نوجوانوں کی زندگی، جنگ کے ماحول میں محفوظ علاقے، مشکلات اور خوف کے درمیان دن گزارنے کی جدوجہد ہے۔

یہ فلم کیونکہ اسرائیل کے جنگی جرائم کو بیان کرنے کے لیے کافی تھی لہٰذا اس پر شدید تنقید کی گئی۔

فلم پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ کہانی کا مرکزی کردار 13 سالہ لڑکا جس کا نام عبداللہ الیزوری ہے، اور اس کے والد ایمن الیزوری غزہ میں حماس کی حکومت کے نائب وزیرِ زراعت رہ چکے ہیں۔

ناقدین نے جن کا تعلق اسرائیل کے ہمدردوں سے تھا، اس فلم پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس فلم میں پس منظر کی شفافیت کا فقدان ہے۔ یعنی یہ اہم حقائق فراہم نہیں کیے گئے کہ مرکزی کردار یا راوی کا والد حماس حکومت میں ایک اہم عہدے پر فائز ہے۔ اس فلم پر مرتب کردہ جائزہ رپورٹ نے اسے ’’اہم معلومات‘‘ قرار دیا جو نشر ہونے سے پہلے ناظرین کو معلوم ہونی چاہیے تھی۔

ایک اندرونی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تین افراد کو یہ معلومات تھیں، مگر بی بی سی کو اس سے پہلے اطلاع نہیں تھی کہ اس بچے کا والد حماس حکومت میں ہے۔

اس جائزہ رپورٹ میں اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا کہ بی بی سی نے اس فلم میں کوئی باقاعدہ جانب داری نہیں کی ہے۔

لیکن اس کے بعد برطانوی میڈیا ریگولیٹری باڈی آف کام نے اس فلم کو ’’مواد کے لحاظ سے لوگوں کو گمراہ کرنے والا‘‘ اور اسے نشر کرنے کو نشریاتی قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

فلم ابتدائی طور پر نشر کی گئی لیکن بعد میں اسے بی بی سی کی آن لائن سروس ویب سائٹ اور بی بی سی آئی پلیئر سے ہٹا دیا گیا اور اس کو دوبارہ نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پر میڈیا مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سب بھی سیاسی دباؤ کے تحت کیا گیا۔

بی بی سی اس دستاویزی فلم کو ہٹانے کے بعد بھی تنقید کی زد میں رہا اور بی بی سی کے سربراہ ٹم ڈیوی کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوششیں جاری رہیں۔ دوسری جانب بی بی سی نے ابھرتے، ڈوبتے، خبریں بناتے اور تجزیے کرتے ہوئے ایک توازن قائم کرنے کی اپنی سی کوشش کی، لیکن جس معاشرے میں توازن کا مطلب کسی ایک کی جانب داری بن جائے وہاں صحافتی اخلاقیات اور قانون کو بالآخر جھکنے پر مجبور کر ہی دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ اب بی بی سی کے ساتھ بھی ہوا کہ بی بی سی کی ایک اندرونی جائزہ رپورٹ جوکہ اس کے ادارتی معیار کو برقرار رکھنے والے بورڈ کے ایک بیرونی مشیر مائیکل پریسکاٹ نے مبینہ طور پر میڈیا کو جاری کردی، اس رپورٹ میں خاص بات بی بی سی کی سالِ گزشتہ جاری ہونے والی ایک دستاویزی فلم جو کہ ایک سال قبل امریکی صدارتی انتخابات سے چند دن قبل جاری کی گئی، میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے دو حصوں کو غلط طور پر جوڑنے پر تھی جس سے تاثر یہ دیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ایوان کیپٹل ہل پر دھاوا بولنے کا اعلان کررہے ہیں۔

یہ اندرونی رپورٹ ایک عرصے سے اندرونی جائزے کا حصہ تھی لیکن اس کے میڈیا پر آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حرکت میں آئے اور انہوں نے بی بی سی پر ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کرنے کی دھمکی دی۔ ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے کہا کہ بی بی سی نے ان کی ایک تقریر کو پانوراما پروگرام کے لیے منتخب طور پر ایڈٹ کرکے گزشتہ سال صدارتی انتخابات میں ’’مداخلت کرنے‘‘ کی کوشش کی۔

ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بی بی سی کو ’’100 فیصد جھوٹا‘‘ اور ’’پروپیگنڈا مشین‘‘ قرار دیا۔

بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ نے اس غلطی پر معذرت کرتے ہوئے اس تقریر کی ایڈیٹنگ کو ’’غلطیِ تشخیص‘‘ قرار دیا ہے۔ لیکن اس غلطی کی ایک سال بعد تلافی کی صورت شاید بی بی سی کے سربراہ کی قربانی تھی جو کہ بی بی سی نے دے دی۔

اس پورے قضیے میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مغرب میں جہاں میڈیا آزاد ہے وہیں اس پر انتہائی شدید دباؤ بھی ہے جو اس کو بار بار ہاتھ پیر مروڑ کر مفلوج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بی بی سی برطانیہ میں جاری ایک تقسیم کو روکنے کی ہر ممکن کوشش تو کرتا رہا لیکن اس میں سردست ناکام نظر آتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک تقسیم شدہ معاشرے میں جہاں متوازن خبر اور تجزیوں کا بھی گلا گھونٹا جارہا ہو وہاں معاشرے کی تقسیم کو کیونکر روکا جاسکتا ہے!

برطانیہ میں ایک جانب سفید نسل پرستی کا شور ہے تو دوسری جانب اس کے مقابل برطانوی حکومت کی کوشش ہے کہ توازن کو برقرار رکھا جائے۔ اس ساری جدوجہد میں جہاں میڈیا کا کام معاشرے میں شعور کو پہنچانا ہے وہاں وہ کسی قوم کے اجتماعی مزاج کو بنانے میں ایک کارگر عمل انگیز ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کی بدولت ایک شدید تقسیم اور بھانت بھانت کی بولیوں کے ساتھ جھوٹ اور جھوٹی خبروں کا ایک سیلاب ہے، وہاں معتبر میڈیائی اداروں کی حیثیت دوچند ہوجاتی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں بی بی سی ایک غنیمت ہے، اور خاص طور پر بی بی سی صحافت کی دنیا کا ایک نسبتاً معتبر نام ہے جس نے کسی نہ کسی طور پر اپنی صحافتی اقدار کو برقرار رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بی بی سی پر ان حملوں اور ٹم ڈیوی کو ہٹانے کا فائدہ کس کو ہوگا؟ اس سوال کا جواب شاید بہت آسان نہیں، لیکن ٹم ڈیوی کو متنازع بنا کر بی بی سی کو متنازع بنانے کی کوشش کرنے والوں کو ٹم ڈیوی نے رضاکارانہ استعفے کی صورت میں جواب دے دیا کہ ادارہ اور اس کی اقدار ان کی ذات سے بلند ہیں۔ یہی کچھ امریکہ کی سب سے معتبر یونیورسٹی ہارورڈ کی خاتون صدر کلاڈیا گی بھی کیا تھا کہ جب ان کو مجبور کیا گیا کہ وہ فلسطین کے حق میں مظاہرے کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کریں، بصورتِ دیگر ہارورڈ کی گرانٹ بند کردی جائے گی، تو انہوں نے جرأت مندانہ اقدام کرتے ہوئے ادارے کو فوقیت دی، ان طلبہ کے خلاف کارروائی نہیں کی، اور خود رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوکر تاریخ میں امر ہوگئیں۔

وہ معاشرے جہاں ادارے افراد سے برتر ہوتے ہیں اور ان اداروں کے سربراہ بھی اپنی ذات سے بالاتر ہو کر خدمات انجام دیتے ہیں، نہ صرف وہ ادارے برقرار رہتے ہیں بلکہ وہ معاشرے بھی کسی انتشار کا شکار نہیں ہوتے۔ غزہ نے دنیا میں بہت کچھ تبدیل کردیا ہے۔ دنیا کی سب سے معتبر یونیورسٹی سے لے کر دنیا کے سب سے بڑے میڈیائی ادارے بی بی سی تک اس کی جھلک نظر آرہی ہے۔ دنیا میں اصولوں کی بنیاد پر زندگی گزارنے والے اپنے اصولوں کی قربانی نہیں دیتے بلکہ عہدوں کی قربانی دے رہے ہیں۔

مغرب کی جدید جمہوریت کی بنیادوں میں سے ایک میڈیا، اب خود مغرب کے نشانے پر ہے۔ جدید جمہوریت میں جمہور کی آزادی نے جہاں مغربی حکومتوں کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کیا وہیں امید ہے کہ میڈیا پر جاری یلغار پر بھی مناسب ردعمل آئے گا۔ آزادیِ اظہارِ رائے کی جو صورتِ حال اب مغرب میں ہے وہ شاید کبھی تیسری دنیا کے ممالک میں تھی۔ اب مغرب میں باضابطہ قانون سازی کرکے اس آزادی پر قدغنیں لگائی جارہی ہیں۔ بی بی سی کے سربراہ کے استعفے کے بعد اب جبکہ دس سالہ جائزے اور نئے اہداف کے لیے سال 2027ء میں نئی بیٹھک ہوگی تو دیکھنا ہوگا کہ وہ بی بی سی کا کیا نیا کردار متعین کریں گے کہ جس پر اس کو چلنا ہوگا۔