بینکوں کا بین الاقوامی دن ہر سال 4 دسمبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس دن کو دنیا بھر میں پائیدار ترقی اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بینکاری نظام کے اہم کردار کو تسلیم کرنے کے لیے قائم کیا۔
اس دن کا مقصد معاشی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح میں بینکوں کے کردار کو اجاگر کرنا، مالیاتی اداروں کے کردار کے بارے میں آگاہی بڑھانا، عالمی معاشی تعاون کو مضبوط کرنا، پائیدار ترقی کے اہداف ، بینکوں کے کردار کو نمایاں کرنا، مالیاتی شمولیت اور کو فروغ دینا تاکہ ہر فرد اقتصادی نظام کا حصہ بن سکے ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اس دن کو اس لیے تسلیم کیا تاکہ مالی اداروں کی اہمیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا سکے اور معاشی نظام کو مضبوط بنانے میں ان کی کوششوں کو سراہا جا سکے۔
2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے قائم کردہ یہ مشاہدہ عالمی معیشت میں بینکنگ سیکٹر کے کردار کے کئی اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔پاکستان میں بینکاری سب سے پہلے باضابطہ طور پر جنوبی ایشیاء میں برطانوی نو آبادیاتی نظام کے دور میں شروع ہوئی۔ 1947ء میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد اور دنیا میں ایک نئے ملک کے طور پر پاکستان میں بینکاری کے دائرہ کار میں اضافہ اور مسلسل توسیع ہو رہی ہے۔ پاکستان کا سب سے پرانا ملک بینک دولت پاکستان ہے جو قوم کا مرکزی بینک بھی ہے۔
بینک کسی بھی ملک کی اقتصادی ڈھانچے کی بنیاد ہوتے ہیں عوام کی جمع پونجی کو محفوظ رکھنا اور مالیاتی خدمات مہیا کرنا۔
بینک نہ صرف مالیاتی ادارے ہیں بلکہ معاشی ترقی کا بنیادی ستون بھی ہیں۔ بینکوں کا بین الاقوامی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مضبوط اور شفاف بینکاری نظام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ عوام، حکومت اور مالیاتی اداروں کو مل کر ایسا ماحول بنانا چاہیے جہاں جدید، محفوظ اور منصفانہ بینکاری ہر فرد تک پہنچ سکے۔









