Light
Dark

آزاد کشمیر میں پرتشدد واقعات پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ

حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کے بعد آزاد کشمیر میں پرتشدد واقعات پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کای گیا ہے۔
حکومت اور فریقین کے درمیان معاہدہ ہوا ہے کہ پُرتشدد واقعات پر سخت قانونی کارروائی ہوگی، معاہدے کے مطابق دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں سخت سزائیں دی جا سکیں گی جبکہ ضرورت پڑنے پر حقائق سامنے لانے کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔
حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کے مطابق عدالتی کمیشن کو پرتشدد واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مکمل اختیار حاصل ہوگا اور کمیشن اپنی رپورٹ میں ذمہ داران کی نشاندہی اور آئندہ کیلئےسفارشات پیش کرے گا۔
معاہدے کا مقصد آزاد کشمیر میں امن و امان کی بحالی اور تشدد کے واقعات کا خاتمہ ہے، حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، آزاد کشمیر میں پرتشدد واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کو حکومت معاوضہ دے گی۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں 5 روز سے جاری لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ آزاد کشمیر کے تاجر اپنی دکانیں کھول لیں، آزاد کشمیر میں 5 روز بعد معمولات زندگی معمول پر آگئے، آزاد کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کو بحال کردیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا، مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد تھی، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔
اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک متاثر ہوئی تھی، تاہم حکومت نے مذاکرات کرکے مظاہرین کے متعدد مطالبات تسلیم کرلیے تھے، اور جن مطالبات کے لیے آئینی ترامیم درکار ہیں، ان پر مزید کچھ وقت بعد عمل در آمد کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔