اسرائیل نے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کے لیے سفارتی استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے اس حوالے سے قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد نئی قانون سازی کے تحت اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس میں واقع انروا کے دو دفاتر کو ضبط کرنے کا اختیار بھی حاصل کر سکیں گے۔ یہ قانون اسرائیلی کمپنیوں کو انروا کے اداروں کوپانی، بجلی اور مالی خدمات فراہم کرنے سے روکتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق اس قانون کے بعد اسرائیلی کمپنیاں انروا کے اداروں کو پانی، بجلی اور مالی خدمات فراہم نہیں کر سکیں گی، جس سے ادارے کی روزمرہ سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق اس قانون کے بعد اسرائیلی کمپنیاں انروا کے اداروں کو پانی، بجلی اور مالی خدمات فراہم نہیں کر سکیں گی، جس سے ادارے کی روزمرہ سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔









