امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑہ روانہ کیا جا رہا ہے جو احتیاطی اقدام کے طور پر تعینات ہوگا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ “ہماری بڑی تعداد میں بحری فورس اس سمت بھیجی جارہی ہے، امید ہے کہ اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا لیکن ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔”
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے معاملات کو بغور دیکھ رہا ہے اور وہ کسی بھی ممکنہ تنازع سے بچنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ انہوں نے ایران میں 837 افراد کی سزائے موت رکوانے کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر یہ سزائیں جاری رہیں تو “ایران پر ایسا وار کیا جائے گا جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔” ٹرمپ نے کہا کہ پھانسیاں روکنے کے بعد اب ایران بات چیت پر آمادہ ہے اور امریکا بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ پہنچیں گے جبکہ خطے میں اضافی ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ امریکی اڈوں کو ممکنہ ایرانی حملوں سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔









