Light
Dark

سندھ حکومت کا امتحانات میں نقل روکنے کیلئے واٹر مارکنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

کراچی: سندھ حکومت نے امتحانات میں شفافیت یقینی بنانے اور نقل کی روک تھام کیلئے جدید واٹر مارکنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت پرچوں کے اجرا اور لیک ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کا فوری سراغ لگایا جا سکے گا۔

صوبائی وزیر برائے جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو کی زیر صدارت اجلاس میں نئے تعلیمی سال کے امتحانات کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی میں نویں جماعت کے تمام جبکہ میٹرک کے صرف دو پیپر ای مارکنگ کے ذریعے لیے جائیں گے۔

مزید بتایا گیا کہ سکھر اور شہید بینظیر آباد ڈویژن میں تمام امتحانات ای مارکنگ کے تحت ہوں گے، جبکہ لاڑکانہ بورڈ میں نویں سے بارہویں جماعت تک محدود تعداد میں پیپرز اس نظام کے تحت لیے جائیں گے۔

صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ سندھ بھر میں امتحانات مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے اور اس سلسلے میں تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ رواں سال نویں تا بارہویں جماعت کے 13 لاکھ 53 ہزار 258 طلبہ امتحانات میں شرکت کریں گے، جن کیلئے صوبے بھر میں 1600 سے زائد امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

شیڈول کے مطابق کراچی میں گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات 25 اپریل جبکہ نویں اور دسویں کے امتحانات 7 اپریل سے شروع ہوں گے۔ سکھر ڈویژن میں نویں تا دسویں کے امتحانات 30 مارچ اور گیارہویں تا بارہویں کے امتحانات 15 اپریل سے شروع ہوں گے۔

حکام کے مطابق امتحانی مراکز میں موبائل فونز لانے پر پابندی ہوگی اور دفعہ 144 نافذ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مراکز میں پانی، بجلی اور فرنیچر کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

محمد اسماعیل راہو نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے متعلقہ اداروں کو خطوط لکھنے کی ہدایت کی جبکہ شکایات کے ازالے کیلئے خصوصی صوبائی سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی مقام پر پیپر لیک ہونے کی صورت میں متعلقہ بورڈ کے چیئرمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔