پاکستان میں رواں سال پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، جس کے بعد 2026 کے دوران خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد 5 ہوگئی۔
قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اور قومی ادارۂ صحت نے خیبر کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 7 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کردی ہے۔
قومی ادارۂ صحت کی لیبارٹری رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچہ تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی اے کا رہائشی ہے۔ حکام کے مطابق رواں سال خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہونے والے 5 کیسز میں سے 4 جنوبی خیبر پختونخوا کے اضلاع سے سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں پولیو کا خاتمہ کیوں مشکل ہے؟
پاکستان میں انسدادِ پولیو کی سرکاری مہم کا آغاز تقریباً 29 برس قبل ہوا تھا، جس کے تحت پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے لیے ویکسین کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق پولیو کے خاتمے کی راہ میں عوام میں ویکسین سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیاں، سکیورٹی کے مسائل اور صحت کے نظام کی کمزوریاں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ بعض مطالعات میں مذہبی تصورات، پاکستان اور افغانستان کے درمیان غیر منظم نقل و حرکت اور ویکسین سے متعلق آگاہی کی کمی کو بھی اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔
ملک کے مختلف علاقوں میں انسدادِ پولیو ٹیمیں سکیورٹی خطرات کا سامنا بھی کرتی رہی ہیں۔ 2012 کے بعد پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر متعدد حملوں میں جانی نقصان ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ویکسینیشن کی مؤثر کوریج، عوامی آگاہی، سکیورٹی اور صحت کے نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ ان علاقوں تک رسائی ضروری ہے جہاں بچوں کو ویکسین کی مکمل خوراک نہیں مل پاتی۔









