کراچی: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان کراچی میں مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، جہاں پہلے مرحلے میں اسٹیٹ بینک حکام کے ساتھ تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔
مذاکرات کے دوران اسٹیٹ بینک حکام آئی ایم ایف وفد کو ملکی معاشی کارکردگی، زرمبادلہ کے ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ اور بنیادی شرح سود سمیت مختلف اہم معاشی امور پر بریفنگ دیں گے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد رکھنے کا ہدف حاصل کرلیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف وفد کو ملک میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور یورو بانڈ کے اجرا سے متعلق بھی آگاہ کیا جائے گا۔
مذاکرات میں بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم اور دیگر مالیاتی امور پر بھی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔ شیڈول کے مطابق آئی ایم ایف وفد کراچی میں اوورسیز چیمبر آف کامرس کے نمائندوں سے بھی ملاقات کرے گا۔
کراچی میں مذاکرات مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف وفد 25 ستمبر کو اسلام آباد روانہ ہوگا، جہاں وزارت خزانہ، وزارت نجکاری، وزارت توانائی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 ستمبر 2026 کو ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.79 ارب ڈالر تھے، جن میں مرکزی بینک کے ذخائر 21.39 ارب ڈالر شامل تھے









