مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث پاکستان میں ایل این جی بحران شدت اختیار کرگیا، جس کے بعد حکومت نے توانائی بحران اور ممکنہ لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کے لیے متبادل پلان پر کام شروع کردیا ہے۔
ذرائع وزارتِ توانائی کے مطابق دن کے اوقات میں دستیاب اضافی بجلی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت ڈسکوز کے گرڈ اسٹیشنز پر 10 میگاواٹ تک کی بیٹریاں نصب کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، جن میں ذخیرہ کی گئی بجلی رات کے اوقات میں استعمال کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیٹریوں کی تنصیب کے لیے آئندہ دو ہفتوں کے دوران باقاعدہ بڈنگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔ جنوبی علاقوں میں دستیاب سستی اضافی بجلی کو بیٹری اسٹوریج کے ذریعے نیشنل گرڈ میں منتقل کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے۔
حکام کے مطابق بیٹری اسٹوریج کا استعمال صرف ڈسٹری بیوشن سسٹم تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ٹرانسمیشن سائیڈ پر بھی اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق 4 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرچکا ہے، جبکہ ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کی بندش کے باعث مختلف علاقوں میں 7 سے 8 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
مقامی گیس کے کم پریشر اور دستیابی کے مسائل بھی ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بلوں کی بروقت ادائیگی کے باوجود ڈسکوز کی کارکردگی کے مسائل کے باعث انہیں پہلے ہی اضافی لوڈشیڈنگ کا سامنا رہا ہے۔
دوسری جانب پاور سیکٹر کا گردشی قرض بھی 1,675 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریکوری نہ ہونے کے باعث گردشی قرض میں مزید 64 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ کراچی الیکٹرک کے ذمے 194 ارب روپے بھی مجموعی گردشی قرض کا حصہ ہیں۔









