Light
Dark

آئی ایم ایف کی مقامی ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز

قرض پروگرام کے تحت عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کی نئی شرائط سامنے آگئیں۔ آئی ایم ایف نے مقامی طور پر تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور 30 جون کے دو 2026 سے 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ کردیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وزارت صنعت و پیداوار سے بات چیت میں ٹیکس چھوٹ خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، لوکل مینوفیکچرڈ پر سیلز ٹیکس آٹھویں شیڈول سے نکال کر نارمل رجیم میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد: ذرائع کے مطابق مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ہائبرڈ الیکٹریکل گاڑیوں پر دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ جلد ختم ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت مقامی مینوفیکچرڈ ہائبرڈ الیکٹریکل وہیکلز کو 30 جون 2026 تک ٹیکس چھوٹ حاصل ہے۔

دستاویزات کے مطابق 1800 سی سی تک مقامی طور پر تیار ہائبرڈ الیکٹریکل گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، جبکہ 2500 سی سی تک لوکل مینوفیکچرڈ ہائبرڈ الیکٹریکل گاڑیوں پر 12.75 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے وزارت صنعت و پیداوار سے مذاکرات کے دوران ہائبرڈ الیکٹریکل گاڑیوں اور بائیکس پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے مقامی مینوفیکچرڈ گاڑیوں کو سیلز ٹیکس کے آٹھویں شیڈول سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو گئی تو آئندہ سال سے مقامی طور پر تیار کی جانے والی ہائبرڈ الیکٹریکل گاڑیوں اور بائیکس پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم ہو جائے گی، جس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس اقدام سے حکومتی ریونیو میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم مقامی آٹو انڈسٹری اور صارفین پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔