Light
Dark

حماس: غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی مسترد

حماس نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کو مسترد کر دیا۔
حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کا کہنا ہے کہ امریکی مسودہ قرارداد غیرملکی کنٹرول کےلیے راستہ ہموار کرے گا، قرارداد کے تحت غزہ کی حکومت اور تعمیرنو غیرملکی ادارے کے کنٹرول میں چلی جائے گی۔
مزاحمتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکی قرارداد کے تحت فلسطینی خودمختاری ختم ہو جائے گی، بین الاقوامی استحکام فورس کو تعینات کرنا غیرملکی سرپرستی کے مترادف ہے امریکی مسودہ قرارداد اسرائیلی قبضے کی جگہ غیرملکی سرپرستی قائم کرے گا۔
حماس نے فلسطینی اداروں کے ذریعے امداد کی فراہمی اور اقوام متحدہ کی نگرانی پر زور دیا جب کہ غزہ کو غیرمسلح کرنے یا مزاحمت کےحق کو محدود کرنے کی مخالفت کی۔
حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ بنانا ہو گا، اسرائیل کو سرحدی پالیسیوں پر جوابدہ بنانے کیلئے بین الاقوامی میکنزم بننا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قیادت کے بغیر غیرفلسطینی اداروں کو حکومت اور سیکیورٹی پر اختیار غلط ہے قرارداد اقوام متحدہ کےتحت بنانی چاہے جس سےجنگ بندی مضبوط ہو۔
آج سلامتی کونسل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ پلان پر ووٹنگ ہوگی۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل آج غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے سے متعلق ایک امریکی مسودۂ قرارداد پر رائے شماری کے لیے اجلاس منعقد کرے گی، جس میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ نامی عبوری حکومتی ادارے کی تشکیل سے متعلق شق بھی شامل ہے۔
پچھلے مسودوں کے برعکس، تازہ ترین ورژن میں مستقبل کی ممکنہ فلسطینی ریاست کا ذکر موجود ہے۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ جب فلسطینی اتھارٹی مطلوبہ اصلاحات مکمل کر لے گی اور غزہ کی تعمیرِ نو کا عمل شروع ہو جائے گا، تو ’’فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستے کی شرائط بالآخر پوری ہو سکتی ہیں۔‘‘ تاہم اس امکان کو اسرائیل نے دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔
غزہ پلان کی حمایت کرنے والے ممالک میں قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، اردن، ترکیہ اور پاکستان شامل ہیں۔ غزہ پلان کے مسودے میں مشکل اور حساس نوعیت کے مذاکرات کے نتیجے میں کئی بار ترمیم کی گئی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق متن کے تازہ ترین ورژن میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی اجازت دی گئی ہے، جو اسرائیل اور مصر کے ساتھ ساتھ نئی تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی اور غزہ کو غیر مسلح کرنے میں مدد کرے گی۔
غزہ پٹی دو سالہ لڑائی کے بعد بڑی حد تک ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ لڑائی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔