Light
Dark

طاقت کے ابھرتے مراکز اور پاکستان

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

طاقت کے بنتے بگڑتے نئے مراکز کی چھان پھٹک خود قانون فطرت کر رہا ہے۔ پاکستان اس عمل کا اہم حصہ ہے۔ بھول جائیے کہ امریکہ کی تحلیل عشرے ڈیڑھ عشرے کی بات ہے، میں تو پورے مغرب کو احوال عالم سے نکلتے دیکھ رہا ہوں۔ مکرر یاد دہانی کہ قوموں کی زندگی میں چار چھ عشرے تبدیلی ظاہر نہیں کرتے۔ یہ بیان ہو چکا ہے کہ وسط ایشیائی ممالک اب روس، ترکیہ اور پاکستان سے مل کر وہ خلا پر کرنے کو چل پڑے ہیں جو سوویت یونین کی تحلیل سے پیدا ہوا تھا۔ رہا مسلکی دلدل میں دھنسا ہوا ایران تو اس نے بھی بالآخر امت مسلمہ کا رخ کر ہی لیا ہے۔ اللہ کرے اس کا وضو برقرار رہے۔ باقی بچی افغان قیادت تو اس کی مہم جوئی کہیں پنپتی نظر نہیں آتی۔ متلاطم سمندروں میں گھرا یہ ننھا سا جزیرہ کب تک قرآنی اصطلاح بالمعروف کی طوفانی لہروں سے بچ پائے گا۔

اہل بر صغیر کے نزدیک انقلاب توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ، پیہہ جام، مار اور سڑکوں کی بندش سے پیدا شدہ کسی من چاہے عمل کا نتیجہ ہوتا ہے، بھلے وہ انقلاب نہیں کچھ اور ہو۔ بقیہ دنیا میں یہ کام بتدریج، بسکوت اور افکار کے کسر و انکسار سے ہوتا ہے۔ مرحوم صدر ممنون کے میڈیا ایڈوائزر ڈاکٹر فاروق عادل کے بقول ہم نے ازبکستان جانا تھا، دفتر خارجہ نے بریفنگ دی: “جناب, وہاں اسلامی بھائی چارے سے گریز کیجیے، ازبک صدر کی والدہ فوت ہوئی ہیں، تعزیتی دعا مت کیجئے”. ہدایات پیشہ ورانہ اور بر محل تھیں کہ ازبکستان بذریعہ جنگ آزاد نہیں ہوا تھا بلکہ افغانستان میں سوویت مہم جوئی نے یونین کو اتنا لاغر کر دیا تھا کہ ایک دن وہ بتاشے کی طرح بیٹھ گئی اور تمام نو آزاد ممالک کے حکام کمیونسٹ پارٹی کے عہدے دار ، جیسے ازبک صدر اسلام کریموف پارٹی کے سیکرٹری، تھے۔ دفترخارجہ کی ہدایات چھوڑ کر صدر ممنون نے طیارہ تاشقند کی بجائے سمرقند اتارنے کا حکم دیا اور امام بخاری کے مزار پر جا پہنچے۔

انسانی رگ و ریشے میں سمائی فکر اولا خوابیدہ ذہن کو بیدار کرتی ہے۔ یہ فکر ریاست سے بظاہر لاتعلق رہ کر اجتماعی سوچ میں ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ یہ فکر سنگلاخ رستوں پر چل کر پٹخنیاں کھاتی ہے، ساحل سے دور موجوں کے طمانچے کھا کھا کر بالآخر گہر بن جاتی ہے۔ اس فکر کا نادیدہ رستوں پر چلنا، اسے دی گئی پٹخنیاں اور خود سر موجوں کے چٹاخ پٹاخ طمانچے دیکھنے کو گہرے مطالعے والی تیسری آنکھ اور بیدار چھٹی حس چاہیے۔ حکومتی سطح پر قازقستان، بقول صدر ٹرمپ کے، ابراہام اکارڈ میں بس شامل ہونے ہی کو ہے۔ کوئی تعجب نہیں ہوا! 70 سالہ سوویت جبر میں پلنے والی نسل دفعتاً ختم نہیں ہوگی۔قازقستان تو ابھی بالک ہے، ابراہام اکارڈ میں تو سوڈان، مراکش اور امارات جیسے نجیب الطرفین بھی شامل ہیں, تعجب کس بات پر؟

آئیے، اسی قازقستان کو تیسری آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ سینٹرل ایشین افیئرز کے مطابق 1991 میں بوقت آزادی ایک کروڑ 73 لاکھ آبادی کے اس ملک میں لگ بھگ 100 مساجد تھیں۔ 2019 تک آبادی میں اضافہ صرف 8 فیصد (14 لاکھ) ہوا لیکن مساجد 2400 فی صد بڑھ کر 2500 ہو گئی۔ اور یہ اضافہ11 ستمبر 2001 کے بعد قازقستان میں مسلمانوں پر ریاستی جبر کے باوجود ہوا۔ سوویت دور میں خال خال لوگ مسجد میں جاتے تھے لیکن 2019 میں مسلم آبادی کے 10 فیصد افراد بالالتزام مسجد جاتے ہیں اور اسلامی اقدار پر خوب عمل پیرا ہیں۔ ازبکستان اور ترکیہ میں اپنے مشاہدات کی روشنی میں، میں یقین سے کہتا ہوں کہ قازقستان میں بھی وہی ابھرتی اجتماعی فکر بتدریج اور بسرعت سفر طے کر رہی ہے۔

ترکستانی ممالک کے جد امجد کا حال سنیے۔ 2008 میں، میں نے استنبول میں اذان سنی تو لپک کر مسجد چلا گیا۔ صرف تین نمازی اور تینوں پاکستانی ملے۔ ہنس کر بولے: “سرکاری موذن کے ذمے اذان دینا ہے, نماز پڑھنا نہیں. ہم روزانہ یہی دیکھتے ہیں”. میں 2011 میں پھر استنبول میں تھا۔ دوبارہ اسی مسجد میں گیا۔ اب نمازیوں کی کثرت کے باعث صفیں باہر سڑک پر بچھی تھیں ۔2008 تک مصطفی کمال کے ترکیہ میں اسکارف ممنوع تھا۔ امتناع ختم ہوا تو 2011 میں طیب اردوان کے اسی ترکیہ میں ہر تیسری عورت اسکارف میں دیکھی۔

مزید ملاحظہ ہو۔ 2016 میں ازبکستان کی 16 سالہ آبادی دو کروڑ 15 لاکھ تھی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس بالغ آبادی میں شراب کی سالانہ کھپت 2.8 لیٹر فی کس (چھ کروڑ دو لاکھ لیٹر) تھی۔ 5 سال بعد 2021 میں دو کروڑ 45 لاکھ کی اضافہ شدہ آبادی میں یہ کھپت کم ہو کر 1.8 لیٹر (چار کروڑ 41 لاکھ) رہ گئی. یہ ایک کروڑ 61 لاکھ لیٹر سالانہ کی کمی معمولی نہیں ہے۔ یہ کمی تبلیغ سے نہیں ہوئی، نہ یہ کسی فتوے کے باعث ہے۔ یہ کمی اس فطری تدریج اور خاموش اعراض کا سبب ہے جس کا تقاضا دین فطرت کرتا ہے۔ یہی انداز ہمارے صاحب بصیرت مرحوم صدر ممنون نے اپنایا۔ وہ بغیر کچھ کہے ازبک “سیاحتی” مقام، امام بخاری کے مزار کی بظاہر “سیر کرنے” جا پہنچے۔ دفتر خارجہ کی ہدایات کے برعکس انہوں نے صدر کریموف کی والدہ کی تعزیت کر کے اسے رلا بھی دیا۔ کاش ڈاکٹر فاروق عادل میری گزارش مان کر اپنی یادداشتیں قلمبند کر دیں۔

سوویت یونین بطور سپر پاور عالمی سیاست سے معدوم ہوئی تو چینی اگے بڑھ گئے۔ یہ کہا ہوا بھول جایے کہ امریکہ تحلیل ہونے کو ہے ،اس پر البتہ ضرور سوچیے کہ پاکستان، ایران، ترکی، وسط ایشیا اور روس کا ایک ابھرتا بلاک بتدریج طاقت پکڑ رہا ہے۔ نو آزاد ترکستانی ممالک اور ترکیہ میں میخانوں اور رقص گاہوں کے وجود سے انکار نہیں۔ 70 کی دہائی تک یہ کچھ تو پاکستان میں بھی یونہی ہوتا تھا۔ پنڈی اسلام آباد میں شراب کی دکانیں ڈرگ اسٹوروں کی طرح عام تھیں۔ ہم اخبار میں پڑھتے تھے کہ کل کراچی کے فلاں ہوٹل میں کیبرے ڈانس کا مصری طائفہ، پرسوں لاہور میں اطالوی طائفہ اور اگلے ہفتے فرانسیسی ناچنے والیاں لاہور آ رہی ہیں۔ لیکن براہ کرم آپ ان ممالک میں خرافات کے سکڑتے اور نمازیوں کے پھیلتے دائرے کی زبان پڑھیے۔ کہولت زدہ اور لاغر پیر فرتوت کی جگہ لینے کو ان نو زائیدگان میں کوئی بے چینی تو نہیں لیکن آپ دانش مند اہل رائے سے گزارش ہے کہ ژولیدہ فکری کے شکار لوگوں کو اسی ایک نقطہ ماسکہ پر لائیے۔ وقت کا انتظار مت کیجئے کہ وقت خود کسی کا انتظار نہیں کرتا۔