پاکستان ون ڈے ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان نے پی سی بی کا نیا سینٹرل کنٹریکٹ سائن کرنے انکار کر دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان ون ڈے ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے پی سی بی کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور انہوں نے دستخط کرنے کے لیے بورڈ کے سامنے شرائط رکھ دی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق کپتان محمد رضوان نے سینٹرل کنٹریکٹ سائن کرنے کے لیے پی سی بی کے سامنے جو شرائط رکھی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں ٹی 20 اسکواڈ سے ہٹانے کی وجہ بتائی جائے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی سی بی نے محمد رضوان کے مطالبات منظور نہیں کیے ہیں اور نہ ہی ان کے منظور کیے جانے کا کوئی امکان ہے۔
پی سی بی نے 30 قومی کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ پیش کیے تھے۔ اس بار سینٹرل کنٹریکٹ میں اے کٹیگری نہیں رکھی گئی تھی اور رضوان کو 10 دیگر کرکٹرز کے ساتھ بی کٹیگری میں شامل کیا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والے کرکٹرز میں سے سوائے محمد رضوان کے باقی تمام کھلاڑیوں نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
تاہم ڈومیسٹک کرکٹرز جو ابھی فرسٹ کلاس سیزن کھیل رہے ہیں۔ ان میں سے بھی کئی کھلاڑیوں نے ابھی کنٹریکٹ سائن نہیں کیے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے معاوضے بہت کم کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ محمد رضوان کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کو سیریز میں شکست دی۔ تاہم جنوبی افریقہ کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز کے دوران پی سی بی نے ون ڈے ٹیم کی قیادت محمد رضوان سے اچانک واپس لے کر شاہین شاہ آفریدی کو نیا کپتان مقرر کر دیا تھا۔
رضوان کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوا، شاہین کو کپتان بنانے پر محمد عامر کا ردعمل
پی سی بی کے اس فیصلے پر سابق کرکٹرز نے بھی حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو محمد رضوان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک قرار دیا ہے









