نئی دہلی : بھارتی ریاست اترپریش میں بی جے پی متعصب رہنما نے ہندو نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مسلم لڑکیاں اغوا کریں، ان کی شادیاں ہم کرائیں گے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایک بار پھر مسلمانوں سے شدید نفرت اور مذہبی شدت پسندی نے سر اٹھا لیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما راگھویندر پرتاپ سنگھ نے اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لڑکیوں کے اغوا اور زبردستی مذہب کی تبدیلی جیسے خطرناک الفاظ استعمال کیے، جس نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
یہ بیان گزشتہ ہفتے دیا گیا تھا مگر گزشتہ روز اس وقت منظرِ عام پر آیا جب اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ وائرل ویڈیو میں اس شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’میں کہہ رہا ہوں، دو کے بدلے کم از کم دس مسلم لڑکیاں اٹھاؤ، ان کو ہندو بناؤ، شادی ہم کرائیں گے اور نوکری کا انتظام بھی ہم کریں گے۔‘
بی جے پی رہنما نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اب ریاست میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی حکومت نہیں ہے جو مسلمانوں کی خوشامد کرتی تھی۔اب یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے، آپ کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے بی جے پی رہنما کے بیان کو شرمناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مایاوتی نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانا، معاشرے کو منتشر کرنا اور نوجوانوں کو اشتعال دلانا بی جے پی کی اصل سیاست بن چکی ہے









