Light
Dark

غزہ میں شہدا کی ناقابل شناخت لاشوں کو دفنا دیا گیا

غزہ میں فلسطینیوں نے اسرائیل کی واپس کی گئی ناقابل شناخت لاشوں کو دفنا دی
خبرایجنسی کے مطابق فلسطینی ایسی لاشیں دفن کر رہے ہیں جنہیں اسرائیل نے معاہدے کے تحت واپس کیا ہے جن میں بہت سے لاشیں ناقابل شناخت ہیں اور ان پر تشدد کے واضح نشانات ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کے باوجود فلسطینی تاحال خوراک اور پانی کی تلاش کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلےکی خلاف ورزی کرتے ہوئے امداد روک رکھی ہے۔
غزہ میں گھروں کو لوٹنے والے فلسطینیوں کو غیر پھٹنے والے بموں سے بھی خطرات ہیں۔ اسرائیلی فوج کے چھوڑے گئے دھماکا خیز مواد سے اب تک 53فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
اکتوبر2023 سے شروع اسرائیلی جنگ میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 68ہزار 527 ہو گئی ہے جب کہ اسرائیلی بربریت سے زخمی فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1لاکھ 70ہزار 395 ہو گئی۔
غزہ میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ نے غزہ کے مستقبل اور اسلحہ منتقل کرنے پر اہم بیان دیا ہے۔
حماس کے سربراہ خلیل الحیا نے الجزیرہ کو انٹرویو کو انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ حماس دشمن کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کا کوئی بہانہ نہیں دے گی۔
غزہ میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ نے واضح کیا ہے کہ حماس دشمن کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کا کوئی بہانہ نہیں دے گی، غاصب اسرائیل جنگ کے دوران اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ اب امریکی حکام بھی جنگ کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے 72 گھنٹے بعد حماس نے 20 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا اور 17 قیدیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں، اتوار کے روز مزید مقامات پر کارروائی کی جائے گی تاکہ باقی لاشوں کو بھی نکالا جا سکے۔