Light
Dark

حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ کا اہم بیان

غزہ میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ نے غزہ کے مستقبل اور اسلحہ منتقل کرنے پر اہم بیان دیا ہے۔
حماس کے سربراہ خلیل الحیا نے الجزیرہ کو انٹرویو کو انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ حماس دشمن کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کا کوئی بہانہ نہیں دے گی۔
غزہ میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ نے واضح کیا ہے کہ حماس دشمن کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کا کوئی بہانہ نہیں دے گی، غاصب اسرائیل جنگ کے دوران اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ اب امریکی حکام بھی جنگ کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے 72 گھنٹے بعد حماس نے 20 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا اور 17 قیدیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں، اتوار کے روز مزید مقامات پر کارروائی کی جائے گی تاکہ باقی لاشوں کو بھی نکالا جا سکے۔
خلیل الحیه نے اعلان کیا کہ غزہ کی تمام انتظامی و سلامتی ذمہ داریاں مقامی انتظامی کمیٹی کے حوالے کی جائیں گی اور جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین‌الملی فورس کی تعیناتی پر بھی حماس اور فتح کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف قومی انتخابات اور فلسطینی اتحاد کی بحالی ہے، کیونکہ ہم ایک قوم اور ایک حکومت چاہتے ہیں، الحيه نے مزید کہا کہ ہمارا اسلحہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک ہمارے پاس رہے گا اور آزادی کے بعد اسے حکومت کے سپرد کر دیا جائے گا۔
انہوں نے غاصب اسرائیل کی دوحہ پر ناکام جارحیت کو صہیونی ریاست کی ذلت آمیز شکست قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو یہ عوامی بے چینی اور جنگ بندی کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہیں