امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی مذاکرات ختم کر دیے۔
امریکی صدر نے جمعرات کو کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے، ٹرمپ نے کہا کینیڈا کی طرف سے اشتہاری مہم کے دوران سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا بیان غلط پیش کرنے پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے رواں سال کینیڈین سٹیل، ایلومینیم اور آٹوز پر ٹیرف عائد کیے تھے، جس پر کینیڈا نے بھی جواباً ایسا ہی کیا، تاہم دونوں فریقین اسٹیل اور ایلومینیم سیکٹرز کے لیے ممکنہ معاہدے پر ہفتوں سے مذاکرات کر رہے تھے۔
جبکہ اب ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ “ان کے گھٹیا رویے کی بنیاد پر، کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی مذاکرات یہاں ختم کیے جاتے ہیں”، کینیڈا کے اقدام امریکی مفاد اور تجارتی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ اُس اشتہاری مہم کے بعد کیا گیا ہے جسے انہوں نے “جھوٹا اور گمراہ کن” قرار دیا، اس اشتہار میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی پرانی تقاریر کے تراشے استعمال کیے گئے تھے، جن میں وہ درآمدی اشیا پر عائد ٹیرِف کی مخالفت کرتے دکھائی دیے۔
کینیڈا کا امریکی اشیا پر محصولات ختم کرنے کا فیصلہ
اشتہار میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن، جو ایک ریپبلکن تھے، نے غیر ملکی اشیا پر ٹیرف پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ٹرمپ نوکریوں کے نقصان اور تجارتی جنگوں کا سبب بنتے ہیں۔
ادھر کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے کہا کہ اُن کی صوبائی حکومت کی جانب سے نشر ہونے والا یہ اشتہار واقعی صدر ٹرمپ کی توجہ کا باعث بنا، فورڈ نے کہا کہ میں نے سنا ہے صدر نے ہمارا اشتہار دیکھا ہے، مجھے یقین ہے وہ خوش نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب کینیڈین حکومت کا فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں آیا ہے، یاد رہے کہ ٹرمپ نے دنیا بھر کے کئی ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے ٹیرف کا استعمال کیا ہے۔
ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے امریکی ٹیرف کو 1930 کی دہائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے اور وہ باقاعدگی سے مزید ڈیوٹیوں کی دھمکی دیتے رہے ہیں، جس سے کاروباری افراد اور ماہرین معاشیات میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔









