حماس نے ثالث ممالک سے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کیلئے فوری اقدام کی اپیل کر دی۔
حماس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں مزاحمتی تنظیم نے مصر، قطر اور ترکیہ کی 2 سالہ مصالحتی کوششوں پر شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک نے جنگ کے خاتمے کیلئے مؤثر کردار ادا کیا۔
اعلامیہ کے مطابق ان کوششوں میں ملاقاتوں کی میزبانی، مؤقف قریب لانا اور رکاوٹیں دور کرنا شامل تھا، تینوں ممالک کی کوششوں کے نتیجے میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔
حماس نے زور دیا کہ ثالث ممالک معاہدے کی باقی شقوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں، غزہ میں امداد مطلوبہ مقدار میں داخل کی جائے اور رفح کراسنگ کو کھولا جائے، غزہ کی تعمیرنو کے عمل کا فوری آغاز کیا جائے اور انسانی ریلیف میں تاخیر ناقابل قبول ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے، کچھ لاشیں تباہ شدہ سرنگوں میں دفن ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ متعدد یرغمالیوں کی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، تمام لاشوں تک پہنچنے میں وقت درکار ہے۔
حماس کا مزید کہنا تھا کہ ملبہ ہٹانے والے آلات اسرائیلی پابندی کی وجہ سے دستیاب نہیں ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے اسرائیلی پراپیگنڈے کی تردید کی ہے کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
ٹرمپ کے قریبی مشیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔








