Light
Dark

مریدکے میں جو ہوا افسوسناک ہوا

کارکن جانوں سے گئے ۔ ایک جذباتی لیڈر کی ضد نے یہ حادثہ کرایا
جب درجنوں پولیس والوں کو یرغمال بنایا گیا
ایک وین پر قبضہ کرکے سب کو پنڈال لایا گیا
ایس ایچ او کو گولی مار کر مار دیا گیا
پھر آپریشن کا فیصلہ ہوا
کیا یہ اچانک ہو گیا ۔‏ اس جماعت نے کتنی مرتبہ احتجاج کیا ۔ ہر بار ان کے مطالبات مانے گئے ۔ ان کو فاتح بنا کر واپس بھیجا گیا ۔ یہ پہلے سے زیادہ شدت سے واپس آئے ۔ اس دوران جہاں چاہا جس کو چاہا مارا ۔ قتل کیا ۔ جلاؤ گھیراؤ کیا۔ معاشرے میں نفرت ۔ شدت پھیلائی ۔ دیگر مسالک تو چھوڑیں اپنے مسلک کی کسی جماعت ۔ عالم تک کو نہیں مانا ۔ طاقت کا نشہ ۔ جب چاہا پولیس کو مارا ۔ سرکاری و پرائیویٹ املاک جلا دیں
اس بار بھی واپسی کا کہا گیا لیکن یہ فاتح بننا چاہتے تھے ۔ تقریر ہوئی کہ فیس سیونگ دیں ۔ احتجاج ختم کرنے کا کہا گیا
بس اس بار یہ فاتح بننے اور فیس سیونگ کی سہولت نہ ملی ملی ۔ تاکہ دوبارہ پھر شدت سے آ سکیں
اگر دوبارہ فیس سیونگ ملتی ۔ فاتح بنتے ۔ دوبارہ آتے
اب فیصلہ تو یہی تھا ۔ یا تو معاشرے میں ان کی تباہ کاریاں برداشت کریں ہر دو ماہ بعد یہی صورت حال
یا پھر کوئی حل ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا ۔
جب پورا پورا ملک کئی دن بند کر دیتے ۔ حکومت چپ رہتی ۔ پورے ملک میں اربوں کا نقصان اور لوگوں کی جانیں جاتیں ۔ پھر حکومت نااہل ٹھہرتی ۔ معاہدہ کرتی ۔ ترلے منت کرکے فاتح بنا کر واپس بھیجتی ۔
اب بھی کوشش ہوئی لیکن ایک جذباتی لیڈر اپنی ضد پر اڑا رہا ۔اور خون خرابہ کرایا
حکومت فرشتہ نہیں ۔ نہ ہی معصوم
لیکن سوال پھر یہی کہ صرف اسی جماعت کا احتجاج ہی ہر مرتبہ پرتشدد کیوں ہوتا رہا ۔۔
جو ہوا افسوسناک ہوا ۔ لیکن اچانک تو نہیں ہوا ۔
یہ دینی طبقے کے لیے سوچنے کا مقام ہے ۔
معاشرے میں ایک شدت پسند اور پرتشدد رخ سامنے آیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ سب کو محفوظ رکھے ۔ آمین