بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت کا کہنا ہے کہ نشے کی لت میں اس قدر مبتلا تھا کہ یوں لگنے لگا تھا کہ جلد مرجاؤں گا۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے دت نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں نے خود کو مرتے دیکھا ہے، میں چھپنے، بھاگنے سے تنگ آیا تھا، بیمار پڑ رہا تھا اس لیے میں نے فیصلہ کیا اور کہا کہ خاندان سے مدد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں آپ کو اپنی توجہ ہٹانی چاہیے، ورزش کرنی چاہیے، جسمانی سرگرمی نے لوگوں کی مدد کی ہے، یہ کسی بھی چیز سے بہتر ایک خوبصورت احساس ہے۔
سنجے دت نے بتایا کہ آتش میں تنوجا کو ڈائریکٹر کہتا تھا کہ اسے مت چھیڑو، انہیں مجھے سین میں تھپڑ مارنا تھا لیکن اس نے ہاتھ نہ لگایا بس سامنے سے ہاتھ گزارا ورنہ میں گر جاتا۔
پوجا بھٹ نے کہا کہ میں انہیں چھ سال کی عمر سے جاتی ہوں وہ وہ ہمیشہ ان کا خیال رکھتے تھے، ان کے لباس پر تبصرے کرتے تھے، انہیں جلد سونے اور اپنی صحت کا خیال رکھنے کا کہتے تھے۔
واضح رہے کہ والدہ لیجنڈری اداکارہ نرگس کی بیماری اور انتقال کے بعد سنجے دت کا نشے کا نزول شروع ہوا، اور ان کی موت نے گہرا اثر ڈالا، آہستہ آہستہ بیرون ملک بحالی کی متعدد کوششیں کیں اور نئے عزم کے ساتھ زندگی اور اداکاری دوبارہ شروع کی۔









