Light
Dark

بانی پی ٹی آئی دور میں سعودی عرب سے ملنے والے تحائف سے متعلق ہوشربا انکشافات

رہنما نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس ٹو میں سابق ایم ایس کا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔
سابق ایم ایس محمد امجد کی جانب سے بلگاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔ محمد امجد نے توشہ خانہ ٹو کیس سے متعلق اہم بیان دیا ہے جس میں انہوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے سعودی ولی عد کی جانب سے ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کا کہا تھا۔
سابق ایم ایس کے مطابق دورہ سعودی عرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ملنے والے تحائف میں جیولری سیٹ، عود کی بوتلیں، زیتون کا تیل، کھجور اور ایک کتاب شامل تھی۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ میں جمع کرانے سے روک دیا تھا۔
توشہ خانے کے سابق ایم ایس نے بیان میں مزید کہا کہ غیر ملکی دوروں میں تحائف وصولی کے وقت وزارت خارجہ کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔ سعودی عرب میں ملنے والے تحائف پر وزارتِ خارجہ نے وزیراعظم آفس کو تحریری آگاہ کیا تھا۔
محمد امجد نے مزید بتایا کہ توتشہ خانہ کابینہ ڈویژن کے ماتحت ہے۔ تمام تحائف کی سرکاری پروٹوکول کے مطابق تصاویر بنائی گئی تھیں۔ نیب اور ایف آئی اے کے سامنے بھی بیان ریکارڈ کرا چکا ہوں۔
سابق ایم ایس نے کہا کہ سعودی عرب سے ملنے والے ان تحائف کی مالیت 29 لاکھ 14 ہزار 500 روپے لگائی گئی تھی۔ رقم بشریٰ بی بی کو سعودی ولی عہد کی جانب سے دیے گئے تحائف کے عوض جمع کرائی گئی اور اس وقت توشہ خانہ سیکشن کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحائف کی مالیت کا تعین اور توشہ خانہ سے خط و کتابت ڈپٹی ایم ایس نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے حکم پر کی تھی۔
محمد امجد نے بتایا کہ انہوں نے 15 مئی 2020 سے 10 اپریل 2022 تک بطور ایم ایس فرائض انجام دیے تھے۔ اس دوران وہ 2021 میں 7 سے 10 مئی تک دورہ سعودی عرب میں سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تھے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق بلگاری جیولری سیٹ کی اصل مالیت ساڑھے 7 کروڑ روپے تھی۔ اس جیولری سیٹ میں نیکلیس، بریسلیٹ، ایئر رنگز اور انگوٹھی شامل تھی۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے پرائیویٹ اپریزر سے سیٹ کی قیمت 59 لاکھ روپے لگوائی اور صرف 29 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے