امریکی جیوری نے گوگل کو صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرنے پر 425 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گوگل پر لاکھوں صارفین کا ڈیٹا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے، امریکی جیوری نے گوگل کے خلاف فیصلہ سان فرانسسکو میں سنایا۔
گوگل پر الزام تھا کہ صارفین کی سیٹنگز تبدیل کرنے کے باوجود ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، گوگل نے تھرڈ پارٹی ایپس کے ذریعے ڈیٹا جمع کیا۔
صارفین نے گوگل پر الزام عائد کیا کہ تھرڈ پارٹی ایپس کے ذریعے ڈیٹا جمع کیا، مقدمہ جولائی 2020 میں دائر کیا گیا تھا، 9 کروڑ 80 لاکھ گوگل صارفین متاثر ہوئے تھے۔
امریکی جیوری کے فیصلے کے بعد گوگل کی جانب سے اپیل میں جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ترجمان گوگل کا کہنا ہے کہ پرائیویسی ٹولز صارفین کو مکمل کنٹرول فراہم کرتے ہیں، پرسنلائزیشن آف کرنے پر صارفین کا فیصلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
گوگل ترجمان کے مطابق جمع کیا گیا ڈیٹا نان پرسنل تھا، گوگل نے ڈیٹا الگ اور انکرپٹڈ لوکیشنز میں رکھا گیا، گوگل کو پہلے بھی پرائیویسی سے متعلق مقدمات کا سامنا رہا ہے









